0

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

تحریر: ڈاکٹر شگفتہ یاسمین
نئی دہلی، 26 دسمبر (یو این آئی) دنیائے ادب اردو میں بے شمار سخن ور آئے اور آتے رہیں گے لیکن غالب جیسا سخنور چشم فلک نے کم ہی دیکھا ہوگا ۔ غالب کو اپنی عظمت وانفرادیت کا بخوبی اندازہ تھا اور اس کا اظہار ان کے کلام میں جا بجا ملتا ہے

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

لیکن زمانے کو اعتراٖف میں دیر لگی۔ آج غالب کا شمار اردو اور فارسی کے نابغہ ٔ روزگار اور یکتا و یگانہ شعراء میں ہوتا ہے لوگ ان کے کلام پر سر دھنتے ہیں، ان کے دیوان کو آنکھوں سے لگاتے ہیں، ان کی عظمت کے اعتراف میں جبین نیاز خم کرتے ہیں اور ایسا کرنے میں وہ بالکل حق بجانب ہیں کیوں کہ غالب کے بعد بےشمار شعراء نے ان سے کسب فیض کیا اور بعض ناقدین تو یہاں تک مانتے ہیں کہ اگر غالب نہ ہوتے تو شائد اقبال بھی نہ ہوتے۔ حالی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ

‘ خسرو اور فیضی کے بعد ایسا جامع الصفات شاعر ہماری سرزمین سے نہیں اٹھا’

غالب کا اصل نام اسد اللہ خاں اورغالب تخلص تھا۔ 27 دسمبر 1797 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔

آباءواجداد ترک نسل سے تھے اور مغلیہ دور میں ہندوستان آئے تھے۔

والد کا نام عبداللہ بیگ تھا جو 1801 میں ایک لڑائی میں مارے گئے۔ اس وقت غالب کی عمر صرف 5 سال تھی ۔ والد کی وفات کے بعد ان کی پرورش ان کے چچا نصیر اللہ بیگ خان نے کی لیکن وہ بھی جلد وفات پا گئے اور غالب اپنے نانا کے یہاں رہنے لگے ۔ 13 سال کی عمر میں ان کی شادی امراؤ بیگم سے ہوگئی ۔ دہلی کے داماد تھے لہذا مرزا نوشہ لقب ملا۔ غالب کی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی میں گزرا۔ 11 سال کی عمر سے شاعری کا آغاز ہوا ابتداء میں اسد تخلص کرتے تھے لیکن بعد میں غالب تخلص اختیار کیا۔ وہ ہمیشہ مالی دشواریوں کا شکار رہے۔ سرکاری وظیفہ ملتا تھا جو 1857 کے بعد موقوف ہوگیا تھا لہذا ان کی فاقہ مستی تمام عمر جاری رہی ۔ غالب نے فارسی زبان میں شاعری کا آغاز کیا اور اس دور میں ان کی شاعری پر عرفی ، خاقانی اور بیدل کے تتبع کا رنگ گہرا ہے۔ مشکل پسندی اوردقیق الفاظ و تراکیب سے آراستہ اس شاعری پر غالب کوبہت ناز تھا اور وہ اپنی اردو شاعری کو بے مزہ شاعری قرار دیا کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے آسان الفاظ و تراکیب استعمال کیں اور بات یہاں تک پہنچی کہ سیدھے سادے اور عام فہم الفاط میں زندگی کے مشکل سے مشکل مسائل و موضوعات اور فلسفیانہ موشگافیوں کو شعر کے قالب میں ڈھال دیا۔ اگرچہ ان کی مشکل پسندی اور دقت طلبی پر اعتراضات بھی کیے گئے اس کے باوجود ان کی عظمت شاعرانہ سے انکار ممکن نہیں۔

خود ان کا یہ کہنا تھا کہ

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا

گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی

غالب نے غزل ،ِقصیدہ ۔ مرثیہ، قطعہ، رباعی، شہر آشوب، سہرا وغیرہ تقریباً سبھی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن جو مقام ان کی غزل گوئی کو ملا اس کی نظیر اردو شاعری کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ یوں تو کوئی بھی شاعر ہو وہ خلا میں جنم نہیں لیتا بلکہ اپنے عہد اور ماحول کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔غالب کی شاعری ایک پورے عہد کا آئینہ ہے ایک دور کی آواز ہے ۔ زمانے کے مصائب وآلام، سرد وگرم ،دہلی کی تباہی و بربادی اپنے ساتوں بچوں کا داغ مفارقت اور جوان سال بھائی کی بے وقت موت نے غالب کو شکستہ دل تو بنایا شکستہ پائی نہ دی ۔

کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو

عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے

غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے

بیٹھے ہیں ہم تہیئہ طوفان کیے ہوئے

غالب کی شراب نوشی بھلے ہی معتوب رہی ہو لیکن امتداد زمانہ اور ذاتی مصائب و آلام کے کرب کو کم کرنے کے لیے خود فراموشی کی جو کیفیت درکار تھی وہ ساغر و بادہ اور مئے و مینا کے بغیر ممکن نہ تھی

قرض کی پیتے تھے مئے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب

تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

غالب کے نزدیک دنیا کی حیثیت کسی تماشہ گاہ سے کم نہیں، حیات و کائنات کی رائیگانی کے باوجود انہیں زندگی سے محبت ہے ان کے یہاں قنوطیت پسندی نہیں بلکہ پر امید رجائی انداز ملتا ہے

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

غم ہستی کا اسد کس سے ہوجزمرگ علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

اور سحر ہونے تک وہ اس دنیا کو نئے سرے سے آشکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کوشش میں ان کے دل ودماغ میں کئی سوال اٹھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں کئی اشعار میں کیا ، کب ،کیوں ،کیسے وغیرہ جیسے استفہامیہ الفاظ کا استعمال ہوا ہے

لالہ و گل کہاں سے آئے ہیں

ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

غالب نے کائنات کی موشگافیوں کو حل کرنے میں داخل سے خارج اور ظاہر سے باطن تک کا سفر کیا ہے

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب

ہم نے دشت امکان کو اک نقش پا پایا

غالب کے اشعار میں تصوف و معرفت کی کارفرمائی بھی ملتی ہے اور انہیں خود بھی اس کا احساس تھا چنانچہ وہ کہتے ہیں

یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

اس کے باوجود غالب کی غزل کا اہم ترین موضوع اسی دنیائے رنگ وبو کا جیتا جاگتا محبوب اور اس کےعشق سے وابستہ جذبات و احساسات اور کیفیات ہیں

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

لیکن غالب کے یہاں معشوق کی ستم اور جفا کے بدلے تڑپنے، سسکنے غم میں جلنے اور خاک ہو جانے کا تصور نہیں ملتا اسے وہ عشق نہیں بلکہ دماغ کا خلل قرار دیتے ہیں۔

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

غالب کو عظمت انسانی کا بخوبی احساس تھا اور یہ ان کے کلام میں بارہا جھلکتا ہے

میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل ! بارہا

میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا

غالب کو حالی نے حیوان طریف کہا ہے اور ان کا یہ رنگ ظرافت ان کی نثر میں لطائف اوران کے خطوط میں اپنی چھب دکھلاتا ہے

غالب کے خطوط میں ایک واقعہ گو اور ایک کہانی نویس ملتا ہے کچھ لوگ ان کے خطوط کو اردو نثر کے ارتقاء کا اہم سنگ میل قرار دیتے ہیں۔ یہ خطوط اپنے عہد کی سیاسی وسماجی، علمی وادبی اور تہذیبی زندگی کا نگار خانہ ہیں۔ ان خطوط میں غالب کی ظرافت اور بذلہ سنجی بھی ہے اور اپنے دکھوں کو مزاح کے پردے میں چھپا کر جیے جانے کا حوصلہ بھی اور یہ حوصلہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے ۔15 فروری 1869 کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا اور یہیں آسودہ خاک ہیں

زندگی کے تضادات پر لطیف طنز ، اپنے آپ پر ہنسنے کی صلاحیت، ہر حال میں اپنی فکری عظمت کی انفرادیت کا احساس اور ان کے کلام کی معنویت کا حال یہ کہ ایک لفظ ایک جملہ اور ایک جملہ پوری کائنات پر محیط ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ کلام غالب کی معنویت کو آشکار کرنے کی جستجو میں ہیں اور روزانہ نئے نئے معانی و مفاہیم سامنے آ رہے ہیں اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں