0

کشمیریوں کی بڑھتی ہراسانی قومی سلامتی کا مسئلہ: سجاد لون

سری نگر،27دسمبر(یو این آئی) پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور ہندوارہ کے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے ہفتہ کو ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے مختلف حصوں میں کشمیریوں کے ساتھ بڑھے ہوئے ہراسانی کے واقعات کو ’قومی سلامتی‘ کا مسئلہ قرار دیا اور زور دیا کہ اسے محض قانون و انتظام تک محدود نہ سمجھا جائے۔
لون نے کہا کہ انہیں یہ معاملہ اس وقت اُٹھانا پڑا جب ان کے حلقے کی متعدد خاندانوں نے بیرونِ جموں و کشمیر اپنے رشتہ داروں کے ساتھ پیش آئے دھمکی آمیز واقعات سے متعلق سنجیدہ خدشات ظاہر کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا، اگر ہمارے اپنے ملک میں ہمیں اس طرح کے رویے کا سامنا ہے، تو پھر اس ملک میں ہمارا مقام کیا ہے؟
سجاد لون نے کہا کہ کشمیر کے ہزاروں لوگ دہائیوں سے روزگار کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں رہائش پذیر ہیں اور یہ لوگ دراصل اتحاد کے سفیر تھے جنہوں نے بھارت کے اندر باہمی اعتماد کو مضبوط کیا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
لون نے حکومت کی حالیہ کارروائی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا:
سیکڑوں واقعات کے مقابلے میں دو گرفتاریاں سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہیں۔ یہ معمولی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ عام کشمیریوں کی سماجی اور معاشی کنارہ کشی بھارتی وفاق کے لیے خطرناک نتائج مرتب کر سکتی ہے۔
سجاد لون نے کہا کہ اگر ایک کشمیری نوجوان محض فیس بک پوسٹ لائک کرنے پر یو اے پی اے کے تحت گرفتار ہو سکتا ہے، تو پھر کشمیریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف بھی اسی پیمانے پر کارروائی کی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا:’کیا پی ایس اے صرف کشمیری مسلمانوں کے لیے ہے؟ اسے ان لوگوں کے خلاف بھی لاگو کریں جو نفرت اور تقسیم پھیلا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا:’کمبل بیچنے والے کو دھمکانا بہادری نہیں۔ اگر واقعی غیرت ہے تو چین یا پاکستان کی سرحد پر جائیں۔‘
سجاد لون نے مرکز اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر دیگر ریاستوں کے سربراہان سے رابطہ کریں اور واضح پیغام دیں کہ کشمیریوں کے خلاف ہراسانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ٹویٹس سے حل نہیں ہو گا۔ اگر صورتحال نہ بدلی تو ہم اجتماعی طور پر دہلی جا کر احتجاج کریں گے۔
لون نے پنجاب کے عوام کی اکثریت کے رویّے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیریوں کو ہمیشہ اپنائیت اور تحفظ کا احساس دلایا ہے۔
ریزرویشن کے سوال پر سجاد لون نے کہا کہ موجودہ ڈھانچہ کشمیریوں کے خلاف عدم توازن پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلع اور ڈویژن کی سطح پر بھرتی ہی واحد منصفانہ حل ہے، جب کہ موجودہ نوٹیفیکیشن کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر میں ’ایک کشمیری کو دوسرے کے بدلے کھڑا کرنے‘ کی پالیسی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور یہ پہلے ہی اعتماد کے بحران کو گہرا کر رہی ہے۔
لون نے کہا کہ مین اسٹریم سیاست میں آنے کے بعد انہیں مسلسل کردار کشی اور ایجنسیوں کے ساتھ جوڑنے کی کوششوں کا سامنا رہا، لیکن وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں