0

ہندوستان 2030 تک تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن: ورلڈ اکنامک لیگ کی رپورٹ

نئی دہلی، 27 دسمبر (یو این آئی) ہندوستان کی معاشی پیش قدمی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، ملک 2030 تک دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر ہے اور اگلی دہائی کے دورنا اس پوزیشن کو برقرار رکھے گا۔ یہ پیشگوئی ورلڈ اکنامک لیگ ٹیبل (ڈبلیو ای ایل ٹی) 2026 کی رپورٹ میں کی گئی ہے۔
ڈبلیو ای ایل ٹی برطانیہ میں قائم سینٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ (سی ای بی آر) کی طرف سے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ ہے جس میں اگلے 15 سالوں میں مختلف ممالک کی متوقع مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے لحاظ سے شرح بندی کی جاتی ہے۔
رپورٹ میں ہندوستان کو عالمی معیشت میں سب سے مضبوط طویل مدتی ترقی والے والے ممالک میں سے ایک کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
2026 میں، ہندوستان کے جی ڈی پی کے لحاظ سے جاپان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر آنے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ 2030 تک، یہ صرف امریکہ اور چین کے بعد تیسرے نمبر پر چلا جائے گا، اور 2040 تک اسی پوزیشن میں برقرار رہے گا۔
معاشی لحاظ سے 2010 میں ہندوستان کی نویں پوزیشن اور 2025 میں پانچویں پوزیشن تک ڈرامائی بہتری سے یہ انکشاف ہوتا ہے، جو ایک دہائی سے زیادہ مستحکم اقتصادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت کو بے حد غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تنازعات، مالیاتی دباؤ، اور عالمی کساد بازاری کے سبب بہت ساری بڑی معیشتوں پر دباؤ پڑا ہے۔ ان چیلنجوں کے باوجود، ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار نسبتاً مضبوط رہی ہے۔
اگرچہ 2025 میں عالمی شرح نمو تقریباً 2.6 فیصد درج کی گئی، ہندوستان نے کئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کو پیچھے چھوڑ کر اگلے مرحلے میں دستک دی ہے۔ اس کی بڑی مقامی مارکیٹ کی بدولت عالمی تجارتی رکاوٹوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملی ہے، جبکہ سرمایہ کاری کی مستحکم پیش رفت اور بڑھتی ہوئی کھپت سے مجموعی ترقی کو سہارا ملا ہے۔
ورلڈ اکنامک لیگ ٹیبل کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہندوستان کا معاشی عروج قلیل مدتی اصلاحات کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ طویل مدتی ساختی رجحان کا ثمرہ ہے جو عالمی اقتصادی منظرنامہ کو نئی شکل دے رہا ہے۔
ہندوستان کی پیہم نمو کے پیچھے سب سے اہم محرک اس کی آبادیاتی پروفائل ہے۔ عمر رسیدہ آبادی اور محدود ہوتی ہوئی افرادی قوت کا سامنا کرنے والی بہت ساری ترقی یافتہ معیشتوں کے برعکس، ہندوستان نوجوان اور بڑھتی ہوئی قوت عاملہ والی افرادی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادیاتی جہتیں مستقبل کی عالمی درجہ بندی کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گی اور توقع ہے کہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی لیبر فورس آنے والی دہائیوں میں اعلی سطح کی پیداوار، کھپت اور بچت میں معاون ثابت ہو گی۔
یہ آبادیاتی فوائد ہندوستان کو جاپان اور متعدد یورپی ممالک پر واضح برتری دلانے والے ہیں، جن کی معاشی ترقی عمر رسیدہ آبادی کی وجہ سے محدود ہورہی ہے۔
چونکہ اگلے 15 برسوں میں عالمی جی ڈی پی میں ایشیا کا حصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر توقع ہے کہ ہندوستان کے اس تبدیلی میں مرکزی شراکت داروں میں سے ایک ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، عالمی جی ڈی پی میں ایشیا کا حصہ 2025 میں تقریباً 36 فیصد سے بڑھ کر 2040 تک 42 فیصد سے زائد ہونے کا امکان ہے۔ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے منظر نامے اس رجحان کے کلیدی محرک ہیں، اور ہندوستان کو اس علاقائی تبدیلی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں