0

احتجاج سے پہلے رہنماؤں کی نظربندی؛ فاروق عبداللہ کا انتظامیہ کے اقدام کا دفاع

سری نگر،28 دسمبر(یو این آئی) جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلبہ کے مجوزہ احتجاج سے قبل متعدد سیاسی رہنماؤں کو گھر میں نظربند کیے جانے کے بعد ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انتظامیہ کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر حالات میں بے چینی پیدا کرنا چاہتے تھے، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پہلگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا:’آپ اُن لوگوں سے پوچھیں کہ وہ آخر کرنا کیا چاہتے تھے۔ ہم ریاست کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کچھ لوگ شاید ترقی کی راہ پر جموں و کشمیر کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ ایسے عناصر انتشار چاہتے ہیں اور ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ نظربند کیے گئے رہنما ممکنہ طور پر موجودہ ترقیاتی ماحول سے ناخوش ہیں۔
انتظامیہ نے اتوار کو این سی کے آغا روح اللہ مہدی، پی ڈی پی ایم ایل اے وحید پرہ ، سابق میئر جنید متو اور پی ڈی پی رہنما التجا مفتی کو گھر تک محدود کردیا تاکہ وہ گپکار روڈ پر طلبہ کے ساتھ ہونے والے پُرامن دھرنے میں شریک نہ ہوسکیں۔
طلبہ کی جانب سے موجودہ ریزرویشن پالیسی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی اصلاح سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ راج بھون کے پاس زیرِ التواء ہے۔
پی ڈی پی کے وحید الرحمن پرہ نے نظربندی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت رہنماؤں کو طلبہ کے ساتھ یکجہتی سے روک رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں