0

کپوارہ حراستی تشدد کیس میں آٹھ ملزمان کو ضمانت؛ عدالت نے سخت شرائط کے ساتھ رہائی کا حکم دیا

سری نگر،30دسمبر(یو این آئی)جموں و کشمیر کے ضلع کپوارہ میں پیش آنے والے بدنام زمانہ حراستی تشدد کیس کی سماعت کے دوران پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپوارہ نے منگل کے روز آٹھ ملزمان کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت پر رہا کرنے کا حکم صادر کیا۔ یہ کیس سپریم کورٹ کی ہدایات پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی نگرانی میں چل رہا ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق ہر ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ضمانتی بانڈ داخل کرنا ہوں گے۔ عدالت نے ملزمان پر واضح کیا ہے کہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر عدالتی حدود سے باہر نہیں جا سکتے اور جن کے پاس پاسپورٹ ہے انہیں فوری طور پر عدالت میں جمع کرانا ہوگا۔
عدالت نے انتباہ دیا کہ ملزمان نہ تو گواہوں کو ڈرا دھمکا سکتے ہیں اور نہ ہی شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر سکتے ہیں۔ ٹرائل کورٹ میں ہر پیشی پر حاضر رہنا لازم قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
اس معاملے میں سپریم کورٹ نے ریاستی اداروں کی ناکامی اور اختیارات کے غلط استعمال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کا حکم دیا تھا۔ متاثرہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو غیر قانونی حراست اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے 50 لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اسے آئین کے آرٹیکل 21 کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے نہ صرف متاثرہ کے خلاف دائر خودکشی کی کوشش کے تحت درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا بلکہ متعلقہ اہلکاروں کی فوری گرفتاری اور بعد ازاں محکمانہ کارروائی کے ذریعے رقم کی وصولی کی بھی ہدایت دی تھی۔
سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو ہدایت دی ہے کہ وہ نہ صرف واقعے کی اصل حقیقت بلکہ جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر میں موجود ادارہ جاتی خامیوں، نظامی بے قاعدگیوں اور جوابدہی کی کمی کی بھی تفصیلی جانچ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں