جموں، 3 جنوری (یو این آئی) جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل نے ریاست میں کھیلوں کی انتظامیہ کو بہتر بنانے اور کھلاڑیوں کے مفادات کے تحفظ کے مقصد سے قومی کھیل ترقیاتی ضابطہ 2011 پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
یہ قدم ریاست کے سابق بیڈمنٹن کھلاڑیوں کی جانب سے کھیل ضابطے کے تحت عمر اور مدتِ کار کے اصولوں کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) میں عدالتی جانچ کے ایک دن بعد اٹھایا گیا۔
ضابطے پر عمل کرتے ہوئے جموں و کشمیر بیڈمنٹن ایسوسی ایشن نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کو اطلاع دی ہے کہ اس کے صدر چندر پرکاش شرما اور جنرل سکریٹری بی ایس جموال نے مقررہ عمر کی حد عبور کرنے کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کے استعفے ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی نے منظور کر لیے ہیں۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ارون پَلّی اور جسٹس رجنیِش اوسوال نے اس سے قبل اسپورٹس کونسل اور مختلف اسپورٹس ایسوسی ایشنز سمیت دیگر فریقین کی جانب سے پی آئی ایل میں جواب داخل نہ کرنے اور قواعد پر عمل نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
عدالت کے سخت مؤقف نے زمینی سطح پر اصلاحی اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔ ہفتہ کے روز یہاں پیش رفت سے وابستہ ذرائع نے ’یو این آئی کو بتایا کہ اسپورٹس کونسل نے واضح پیغام دیا ہے کہ کوئی بھی اہلکار، خواہ اس کی سیاسی حیثیت یا سابقہ اثر و رسوخ کچھ بھی ہو، کھیل ضابطے کی خلاف ورزی کی صورت میں عہدے پر برقرار نہیں رہ سکے گا۔
اسپورٹس کونسل نے کہا کہ “عمر کی حد، مدتِ کار کی پابندیاں اور حکمرانی کے معیارات کا نفاذ کھیلوں کے انتظام میں ساکھ بحال کرنے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔”
پی آئی ایل دائر کرنے والے درخواست گزاروں نے اس بات پر خاص زور دیا تھا کہ کئی اسپورٹس ایسوسی ایشنز برسوں سے ایسے افراد کے زیرِ انتظام تھیں جو 70 سال کی عمر عبور کر چکے تھے، جو کہ قومی کھیل ضابطہ 2011 کی سریع خلاف ورزی ہے۔
0
