سری نگر،4 جنوری(یو این آئی) جموں و کشمیر کے عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقامات گلمرگ، پہلگام اور سونہ مرگ میں ان دنوں سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی وادیٔ کشمیر میں برفباری کی ہلکی جھلک نے ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیا ہے.
سیاحتی محکمہ کے مطابق نئے سال کے آغاز سے اب تک کشمیر میں آنے والے سیاحوں کی تعداد گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ گلمرگ کے گھوڑا ٹریک، کنگڈوری گونڈولہ پوائنٹ، پہلگام اور سونہ مرگ کے تھجیواس گلیشئر پر سیاحوں کا غیر معمولی ہجوم مسلسل دیکھنے میں آرہا ہے۔ ہوٹلوں کی زیادہ تر بُکنگ مکمل ہو چکی ہے۔
گلمرگ میں اگرچہ بڑے پیمانے پر برفباری تاحال نہیں ہوئی ہے، تاہم پہاڑی ڈھلوانوں پر برف کی موجودگی اور یخ بستہ موسم نے سیاحوں کو خوب متوجہ کیا ہے۔ گلمرگ میں گنڈولہ کی قطاریں کئی گھنٹوں تک لمبی دیکھی گئیں، جبکہ اسکیئنگ کے شوقین سیاح برف کے ٹریک پر تجربے کر رہے ہیں۔
نئی دہلی سے آئے ایک سیاح روی شرما نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا،’ہم نے سوچا تھا شاید ابھی زیادہ برف نہیں ہوگی، مگر گلمرگ کا ماحول اتنا خوبصورت اور سردیوں جیسا ہے کہ ہم بے حد لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہاں کی گونڈولہ رائیڈ دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔‘
ایک اور سیاح حنان فاطمہ، جو ممبئی سے اپنے خاندان کے ساتھ آئی ہیں، نے بتایا،’گلمرگ آکر ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی یورپی ملک میں ہوں۔ صاف ستھری ہوا، دلکش نظارے اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی نے ہمارا دل جیت لیا ہے۔‘
گلمرگ کے ایک ہوٹل مالک محمد اشرف کا کہنا ہے کہ اس سال سیاحتی رش غیر معمولی ہے۔’سالِ نو کی تقریبات نے گلمرگ کو بھر دیا۔ ہمارے کمرے ایک ماہ پہلے ہی بُک ہو گئے تھے۔ اگر اسی رفتار سے سیاح آتے رہے تو اس برس کا سیزن گزشتہ دس برسوں کا ریکارڈ توڑے گا۔‘
پہلگام کو جہاں صدیوں سے ’وادیٔ شہنشاہان‘ کہا جاتا ہے، وہیں سردیوں میں اس کا حسن دو چند ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند روز میں پہلگام کے آرُو اور بیتاب ویلی میں سیاحوں کا ایسا رش دیکھنے میں آیا ہے جو عام طور پر گرمیوں میں دیکھا جاتا ہے۔
لکھنؤ سے آئے ایک سیاح روحیل خان نے کہا،’ہم پہلی بار کشمیر آئے ہیں۔ پہلگام کی خاموشی، دریائے لدر کی موسیقی اور پہاڑوں کی شان نے ہمیں مسحور کر دیا ہے۔ گرمیوں میں آنے والوں کو پتہ نہیں کہ سردیوں میں پہلگام کتنا جادوئی لگتا ہے۔‘
پہلگام کے گھوڑا بانوں نے بھی اس رش سے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مقامی گھوڑا بان عبدالغفور نے بتایا،’ یہ سیزن ہمارے لیے امید کی نئی روشنی لے کر آیا ہے۔ روزگار بہتر ہو رہا ہے، اور خدا کرے کہ یہ رش ایسے ہی جاری رہے۔‘
سونہ مرگ، جسے ’سنہری چراگاہ‘ بھی کہا جاتا ہے، ان دنوں اپنی دلکش وادیوں اور برفیلی چوٹیوں کی وجہ سے سیاحوں کی پہلی پسند بن چکا ہے۔ اگرچہ موسم کی سختی کے باعث سونہ مرگ عام طور پر سردیوں کے مہینوں میں محدود طور پر ہی کھلتا ہے، لیکن اس سال مناسب موسم اور بہتر سڑک سہولیات کی وجہ سے سیاحوں کو یہاں تک پہنچنے میں آسانی ہو رہی ہے۔
تھجیواس گلیشئر پر سیاحوں کے گروپ برف کے مجسمے بناتے، سنو سلجنگ کرتے اور موبائل کیمروں میں یادگار لمحات قید کرتے نظر آرہے ہیں۔
پنجاب سے آئے ایک سیاح امیت چاؤلہ نے بتایا،’سونہ مرگ تو جیسے کسی فلم کا لوکیشن لگتا ہے۔ ہم نے اتنی خوبصورتی کہیں اور نہیں دیکھی۔ برف، گلیشئر، سنہری روشنی—سب کچھ جادوئی ہے۔‘
سونہ مرگ میں مقامی دکاندار شبیر احمد کا کہنا تھا کہ اس سال کاروبار بہت بہتر ہے۔دسمبر میں عام طور پر وادی سنسان ہو جاتی تھی، مگر اس بار ہوٹل بھرے ہیں، گیسٹ ہاؤس بھرے ہیں، اور روزگار میں برکت آئی ہے۔
سیاحت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سردیوں کے دوران اس قدر رش کا ہونا ریاستی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، دستکاری، کھانے پینے سے جڑے ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی کا دار و مدار اسی سیزن پر ہوتا ہے۔
محکمہ سیاحت کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،
’ہم نے کئی نئے ونٹر فیسٹیولز متعارف کرائے ہیں۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے کشمیر کے نئے برانڈ امیج نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر یہ رفتار جاری رہی تو اس سال سیاحت تمام سابقہ ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔‘
سیاحوں کے بڑھتے قدموں سے مقامی لوگوں میں بھی خوشی کی لہر ہے۔ سری نگر کے ایک کاروباری لطیف شاہ کا کہنا تھا کہ سیاحوں کا آنا کشمیر کے امن، خوشحالی اور استحکام کی علامت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کشمیر کو اس کی خوبصورتی، ثقافت اور مہمان نوازی کے لیے جانے، نہ کہ ماضی کی منفی خبروں کے لیے۔
انتظامیہ نے موسم سرما کے دوران سڑکوں کی برف ہٹانے، ٹریفک کنٹرول، ریسکیو ٹیموں اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی پلان بنایا ہے۔ ہائی وے پر ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ سیاح محفوظ طریقے سے اپنے مقامات تک پہنچ سکیں۔
ایک سینئر افسر نے بتایا،’ہم نے گلمرگ، پہلگام اور سونہ مرگ میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیے ہیں۔ موسم کی صورتحال، ٹریفک کی نقل و حرکت اور ہوٹلنگ کی سہولیات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔‘
موسم سرما میں سیاحوں کا ایسا غیر معمولی رش برسوں بعد دیکھا جا رہا ہے، جس نے کشمیر کی سردیوں کی دلکشی کو ایک بار پھر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے سامنے نمایاں کر دیا ہے۔ گلمرگ، پہلگام اور سونہ مرگ اس وقت برفیلی وادیوں، سنہرے پہاڑوں اور نیلی فضاؤں کے ساتھ سیاحوں کا دل موہ رہے ہیں۔
کشمیر کی فضاؤں میں گونجتے سیاحوں کے قہقہے، گلیشئر پر چلتی برف گاڑیاں، اور پہاڑی مناظر کو کیمروں میں قید کرتا ہجوم اس بات کا ثبوت ہے کہ وادی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سردیوں کے سیزن کا خیرمقدم کر رہی ہے—اور تھمتی نہیں، بلکہ بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیاں کشمیر کے بہتر مستقبل کی نوید دے رہی ہیں۔
0
