0

ٹرمپ نے قومی مفاد کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کو 66 عالمی اداروں سے الگ کرلیا

واشنگٹن، 8 جنوری (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی مفاد کا حوالہ دیتے ہوئے ملک کو 66 عالمی تنظیموں سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں سمیت ان 66 بین الاقوامی تنظیموں، ایجنسیوں اور کمیشنوں سے اب امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکم نامے کے مطابق یہ گروپ اب امریکی قومی مفادات کی خدمت نہیں کرتے ہیں۔

صدر کے دفتر نے ان تنظیموں کی شناخت بیکار، غیر موثر اور نقصان دہ اداروں کے طور پر کی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا اس قسم کا جائزہ ابھی جاری ہے، جس سے مستقبل میں ایسی تنظیموں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ موجودہ حکم بنیادی طور پر اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں کو نشانہ بناتا ہے جو آب و ہوا، مزدوری اور متعلقہ مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

حکام کے مطابق، ایگزیکٹو آرڈر 14199 کے تحت حکومتی سطح پر کیے گئے جائزے میں 35 غیر اقوام متحدہ کی تنظیمیں اور 31 اقوام متحدہ سے متعلقہ ادارے پائے گئے جو امریکی معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 7 جنوری کو جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہا کہ ان میں سے بہت سی تنظیمیں غیر ضروری، بدانتظامی یا خصوصی مفادات کے زیر کنٹرول پائی گئیں جو امریکی ترجیحات کے برعکس کام کر رہی ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی عوام کی محنت کی کمائی ان اداروں کو بھیجنا اب قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ اس کے بدلے میں ملک کو کچھ نہیں ملتا۔ بیان کے مطابق ٹیکس دہندگان کی اربوں ڈالر کی رقم امریکی عوام کی قیمت پر غیر ملکی مفادات کو دینے کا دور ختم ہو گیا ہے۔

انتظامیہ نے یہ بھی طے کیا کہ کچھ تنظیمیں امریکی خودمختاری، معاشی خوشحالی اور آزادی کے لیے خطرہ کررہی تھیں، جب کہ دیگر امریکی مفادات سے متصادم نظریاتی ایجنڈوں کو آگے بڑھا رہی تھیں۔ حکام نے عالمی گورننس سسٹم پر بھی تنقید کی، جس پر تنوع، مساوات، شمولیت کے اقدامات، موسمیاتی پروگرام اور صنفی مساوات جیسی مہمات کا دبدبہ ہے۔

محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے جائزے ابھی جاری ہیں اور انتظامیہ ہر معاملے کی بنیاد پر مستقبل میں امریکی شرکت کا جائزہ لینا جاری رکھے گی۔ مسٹر روبیو نے یہ بھی کہا کہ امریکہ صرف وہاں تعاون کرے گا جہاں سے عوام کے مفادات وابستہ ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں