سری نگر، 11 جنوری (یو این آئی) منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم میں جموں وکشمیر پولیس نے شمالی قصبہ سوپور میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران چار منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کی تحویل سے ممنوعہ مواد بر آمد کیا ہے۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اسٹیشن بومئی کی ایک تٰم نے ناتھ پورہ – تجر لنک روڈ پر ناکہ قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران ایک مشتبہ شخص کو دھر لیا گیا جس نے پولیس کو دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران اس کی تحویل سے چرس جیسا ممنوعہ مواد بر آمد کیا گیا جس کے بعد اس کو موقع پر ہی گرفتار کیا گیا۔
ملزم کی شناخت عمر محمد ولد غلام محمد شیخ ساکن شیخ پورہ تجر کے طور پر کی گئی۔
پولیس نے اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن بومئی میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے متعلقہ دفعات کے تحت زیر ایف آئی آر نمبر 3/2026 ایک مقدمہ درج کیا ہے اور مزید تحقیقات شروع کی ہیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ ایک اور معاملے میں پولیس پوسٹ وار پورہ کی ایک ٹیم نے پولٹری کراسنگ ڈانگر پورہ روڈ پر ناکے کے دوران دو مشتبہ افراد کو دھر لیا جنہوں نے پولیس کو دیکھ کر جائے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ تلاشی کے دوران ان کی تحویل سے اسپازمو – پروکسی وون پلس کیپسول بر آمد کئے گئے۔
ملزموں کی شناخت ماجد اشرف خان ولد محمد اشرف خان ساکن پٹھہ سیر سوپور اور مصدق معراج ولد معراج الدین ڈار ساکن مسلم پیر سوپور کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس نے اس ضمن میں پولیس اسٹیشن سوپور میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے متعلقہ دفعات کے تحت زیر ایف آئی آر نمبر8/2026 ایک مقدمہ درج کیا ہے اور مزید تحقیقات شروع کی ہیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ اسی طرح کی ایک اور کارروائی کے دوران پولیس پوسٹ بس اسٹینڈ سوپور کی ایک ٹیم نے نہر پورہ کراسنگ پر معمول کی گشت کے دوران ایک شخص کو گرفتار کیا جس نے پولیس کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے ہیروئن جیسا مواد اور الپرازولام کی گولیاں بر آمد کی گئیں۔
ملزم کی شناخت ناصر یوسف شاہ ولد محمد یوسف شاہ ساکن نہر پورہ کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ اس ضمن میں پولیس اسٹیشن سوپور میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے متعلقہ دفعات کے تحت زیر ایف آئی آر نمبر 9/2026 ایک مقدمہ درج کیا گیا اور مزید تحقیقات شروع کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام معاملات مین منشیات کے ذرائع اور اس میں ملوث وسیع نیٹ ورک کا پتہ لگانے کے لئے مزید تفتیش جاری ہے۔
