جموں،13جنوری (یو این آئی) لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے منگل کے روز چین کی جانب سے شکسگام وادی پر ملکیت کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاک مقبوضہ کشمیر کا ہر انچ ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی توسیع پسندانہ کوشش ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
چین نے حال ہی میں شکسگام وادی میں اپنے انفراسٹرکچر پروجیکٹس کا جواز پیش کرتے ہوئے اسے اپنا علاقہ قرار دیا تھا، جس پر ہندستان نے شدید اعتراض ظاہر کیا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے گپتا نے کہا کہ ’پورا پو جے کے ہماری سرزمین ہے۔ پاکستان نے چین کو کیا دے رکھا ہے، یہ اُن کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خطہ ہندستان کا ہی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ہندستان آج مضبوط اور باصلاحیت ہے۔ ’ہم 1962 والے حالات میں نہیں ہیں۔ ملک اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے اور وزارتِ خارجہ اس تمام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔‘ انہوں نے یاد دلایا کہ چین اسی انداز میں اروناچل پردیش کے بعض حصوں پر بھی دعویٰ کرتا رہا ہے۔
لداخ کے ایل جی نے پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو خود کو نیلام کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ وہاں کے عوام کی آوازیں دبائی جا رہی ہیں—چاہے بلوچستان ہو، سندھ ہو یا کراچی—ہر جگہ فوج کے ظلم کا بول بالا ہے۔‘
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ ہندستان کی جانب سے پاکستانی زیر قبضہ کشمیر پر موقف ہمیشہ مضبوط اور غیر مبہم رہا ہے۔ 1994 کی پارلیمنٹ قرارداد میں اس بات کو دوٹوک لکھا گیا ہے کہ پورا پاکستانی کشمیرہندستان کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حساس معاملات پر اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب ضروری ہے۔
فوجی سربراہ کے بیان،جس میں ’آپریشن سندور‘ کو جاری مشن بتایا گیا، پرلیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ فوجی سربراہ کا بیان ذمہ دارانہ اور قابلِ ستائش ہے۔
لداخ میں مبینہ بےچینی کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے مسٹر کویندر گپتا نے کہا کہ خطہ آج ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہے۔ ’لداخ کے لوگ متحد، محبِ وطن اور ترقیاتی کاموں کے ہمیشہ حامی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ لداخ کے ترقیاتی بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا گیا ہے۔ ’پہلے لداخ کو محض 150 کروڑ دیے جاتے تھے، آج یہ رقم تقریباً 6000 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔‘
0
