سری نگر،13جنوری (یو این آئی) جموں و کشمیر حکومت نے دہشت گردی سے روابط رکھنے کے الزامات ثابت ہونے پر ایک بڑے ایکشن کے تحت مختلف محکموں کے پانچ سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی منظوری کے بعد یہ کاروائی عمل میں لائی گئی، جسے وادی میں دہشت گردی کے ایکو سسٹم کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق برطرف کیے گئے ملازمین میں ایک سرکاری استاد، لیبارٹری ٹیکنیشن، اسسٹنٹ لائن مین، محکمہ جنگلات کا فیلڈ ورکر اور محکمہ صحت کا ڈرائیور شامل ہے۔ ان تمام افراد پر مختلف دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین سے وابستگی، مدد، رابطے یا سہولت کاری کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔
ذرائع کے مطابق محمد اسحاق، جو 2013 میں استاد کے طور پر مستقل ہوئے تھے، پاکستان سے سرگرم لشکرِ طیبہ کمانڈر ابو خبیب کے ساتھ رابطے میں تھے۔ حکام نے بتایا کہ اسحاق کو 2022 میں ڈوڈہ میں ایک پولیس افسر کے قتل کی منصوبہ بندی کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں اسلحہ سمیت گرفتار کیا۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق وہ اپنے پیشے کا غلط استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ کرتا اور دہشت گردی کی جانب دھکیلتا تھا۔ حتیٰ کہ جیل میں بھی وہ قیدیوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرتا رہا۔
طارق احمد، جو اننت ناگ کے بجبہاڑہ اسپتال میں تعینات تھا، اپنے چچا امین بابا، سابق حزب ڈویژنل کمانڈر، سے متاثر ہو کر ابتدائی عمر ہی سے حزب کے قریب رہا۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ 2005 میں امین بابا کے پاکستان فرار ہونے میں طارق نے اہم کردار ادا کیا، حتیٰ کہ وہ اسے اٹاری-واگھا بارڈر تک چھوڑ کر آیا۔ بعد میں طارق کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کے پختہ شواہد ملے جس پر اس کی برطرفی عمل میں لائی گئی۔
محکمہ پی ایچ ای میں اسسٹنٹ لائن مین بشیر احمد میر کو 2021 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس کے گھر پر چھاپے میں دو دہشت گرد مارے گئے اور اسلحہ برآمد ہوا۔ وہ طویل عرصے سے لشکر کو رہائش، رسد اور نقل و حرکت میں مدد فراہم کرتا رہا تھا۔
محکمہ جنگلات کے فاروق احمد پر بھی طاریق احمد کی طرح امین بابا کے پاکستان فرار میں اہم کردار نبھانے کا الزام ثابت ہوا۔ اس نے سرکاری شناختی کارڈ کا غلط استعمال کرتے ہوئے متعدد چیک پوسٹوں کو پار کیا۔ وہ ایک سابق ایم ایل اے کے ساتھ بھی رابطے میں تھا جو مبینہ طور پر حزب کے ہمدرد تھے۔
محکمہ ہیلتھ کے ڈرائیور محمد یوسف نے حزب ہینڈلرز کے ساتھ روابط قائم کیے اور انہی کے کہنے پر اسلحہ، رقم اور دیگر مواد پہنچانے کا کام انجام دیتا رہا۔ جولائی 2024 میں اس کی گاڑی سے پستول، گولیاں، ایک گرینیڈ اور پانچ لاکھ روپے کی رقم برآمد ہوئی، جو ایک دہشت گرد تک پہنچائی جانی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری محکموں میں چھپے ایسے عناصر قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ملازمین جو دشمن ملک کے مفادات کو فروغ دیتے ہیں، انہیں کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مزید کارروائیاں بھی متوقع ہیں۔
0
