نئی دہلی، 13 جنوری (یواین آئی): سپریم کورٹ نے منگل کے روز آوارہ کتوں کے حملوں کے سلسلے میں ذمہ داری اور جوابدہی طے کرنے کے لیے واضح ضابطوں کی عدم موجودگی پر گہری تشویش ظاہر کی اور اشارہ دیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے لائسنسنگ یا جوابدہی کا کوئی فریم ورک نافذ کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این۔ وی۔ انجاریا پر مشتمل بنچ نے مسلسل چوتھے دن آوارہ کتوں کے انتظام سے متعلق ازخود نوٹس کے تحت ایک معاملے کی سماعت کی اور مشاہدہ کیا کہ موجودہ قوانین اس بات کی واضح وضاحت نہیں کرتے کہ جب کوئی آوارہ کتا کسی انسان کو کاٹتا ہے یا اس پر حملہ کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے بار بار سوال اٹھایا کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی چوٹوں یا اموات کے معاملات میں، خاص طور پر جب بچے اور بزرگ متاثر ہوں، تو کس کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
ججوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ قانونی ڈھانچے کے تحت آوارہ کتوں کو کسی فرد یا ادارے کے “قبضے” میں نہیں مانا جاتا، جس کے باعث جوابدہی کا خلا پیدا ہوتا ہے۔
جسٹس مہتا نے تبصرہ کیا کہ اگر افراد یا تنظیمیں آوارہ کتوں کو کھانا کھلانے کا حق جتاتی ہیں تو انہیں اپنے اعمال کی ذمہ داری بھی قبول کرنی پڑ سکتی ہے۔
عدالت نے عندیہ دیا کہ ایسے افراد یا گروہوں کے لیے لائسنس لینا ضروری ہو سکتا ہے یا کتے کے کاٹنے کے واقعات پر انہیں قانونی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ عدالت آوارہ کتوں کی وجہ سے ہونے والی ہر چوٹ یا موت کے لیے بلدیاتی حکام اور کتے پالنے والوں دونوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتوں کی فلاح کے نام پر انہیں کھلے عام گھومنے دینے اور عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے لوگوں کو چاہیے کہ وہ انہیں اپنے گھروں میں رکھیں۔ عدالت نے سوال کیا، ’’کتے آخر کیوں اِدھر اُدھر گھومتے رہیں، لوگوں کو کاٹتے اور خوف زدہ کرتے رہیں؟‘‘
بنچ نے نومبر میں دیے گئے اپنے اس حکم کا بھی حوالہ دیا جس میں مقامی حکام کو ہدایت دی گئی تھی کہ اسپتالوں، اسکولوں، بس اسٹینڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر عوامی و ادارہ جاتی مقامات سے آوارہ کتوں کو ہٹایا جائے۔
عدالت نے حکم دیا تھا کہ ایسے کتوں کو اینیمل برتھ کنٹرول (اے بی سی) قواعد کے مطابق ٹیکہ لگایا جائے اور نس بندی کی جائے اور انہیں وہیں واپس نہ چھوڑا جائے۔ متعدد جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس حکم میں ترمیم کی درخواست کی ہے، جس پر عدالت میں تفصیلی سماعت جاری ہے۔
ایک تنظیم کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اروند دتار نے عدالت کے سابقہ حکم کی حمایت کرتے ہوئے دلیل دی کہ آوارہ کتوں کو انسانی استعمال کے لیے بنائے گئے ادارہ جاتی یا عوامی مقامات پر قابض رہنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتوں کو دوبارہ ایسے مقامات پر چھوڑنا جانوروں کی جانب سے تجاوز کے مترادف ہے اور اس ضمن میں انہوں نے اے بی سی قواعد اور سابقہ ہائی کورٹ فیصلوں کا حوالہ دیا۔
عدالت نے لداخ سمیت جنگلی حیات کے علاقوں میں آوارہ کتوں کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات پر بھی توجہ دی، جہاں بڑی تعداد میں کھلے عام گھومنے والے کتوں کو نایاب انواع کے لیے سنگین خطرہ بتایا گیا ہے۔
جسٹس مہتا نے تبصرہ کیا کہ یہ مسئلہ اب عدالت کے احاطوں تک بھی پھیل چکا ہے اور انہوں نے گجرات ہائی کورٹ میں حالیہ کتے کے کاٹنے کے واقعے کا ذکر کیا۔
دوسری جانب جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکلاء نے عدالت سے متوازن اور انسانی نقطۂ نظر اپنانے کی اپیل کی۔ طویل سماعت کے دوران بنچ نے دلائل کی شدت اور طوالت پر بھی تبصرہ کیا۔
جسٹس مہتا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تقرری کے بعد انہوں نے کسی ایک معاملے میں اتنی طویل سماعت نہیں دیکھی، اور یہ بھی کہا کہ انسانی معاملات پر اتنے جذباتی دلائل انہوں نے شاذ و نادر ہی سنے ہیں۔
عدالت نے کتے کے کاٹنے سے متاثرہ افراد کی باتیں بھی سنیں، جن میں ایک خاتون خود پیش ہوئیں اور انہوں نے بچپن میں اپنے اوپر ہونے والے حملے اور بعد ازاں اسی کتے کو گود لینے کے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے خوف پر مبنی جارحیت اور جامع حل کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ کارروائی عدالت کی سماعت کے بجائے عوامی مباحثے کی شکل اختیار کر رہی ہے، بنچ نے کہا کہ وہ جوابدہی طے کرنے اور حکام کو کارروائی کی ہدایت دینے کے لیے مناسب احکامات جاری کرنے پر غور کرے گی۔ معاملے کی اگلی سماعت 20 جنوری کو دوپہر دو بجے ہوگی۔
0
