0

ایران میں بگڑتی صورتحال: کشمیری والدین کا طلبا کی فوری انخلا کا مطالبہ

سری نگر،15 جنوری(یو این آئی) ایران میں حالات تیزی سے خراب ہونے کے بعد وہاں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے اہل خانہ شدید اضطراب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور انہوں نے حکومتِ ہند سے فوری اور منظم طور پر اپنے بچوں کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
والدین نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور جموں و کشمیر انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حالات ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سنگین ہو رہے ہیں اور بچوں کی جانیں خطرے میں پڑتی جا رہی ہیں۔
والدین نے شدید پریشانی کے عالم میں کہا، ’ہماری راتیں بے خوابی میں گزر رہی ہیں۔ نہ انٹرنیٹ ہے، نہ پیسے بھیجنے کا راستہ اور نہ ہی فون کالیں لگ رہی ہیں۔ میری بیٹی نے روتے ہوئے کہا۔ بابا، ہمیں یہاں سے نکالو۔ میں اسے کیا جواب دوں؟‘
ایک اور والد نے کہا کہ یوکرین جنگ کے دوران جس طرح حکومتِ ہند نے طلبہ کا بڑے پیمانے پر انخلا کیا تھا، وہی امید آج ایران میں پھنسے بچوں کے لیے بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے طور پر انخلا کا بندوبست کر لیں، عملاً ناممکن ہے کیونکہ نہ پیسے موجود ہیں، نہ سفری سہولیات اور نہ ہی رابطہ ممکن ہے۔
ادھر تہران میں ہندستانی سفارتخانے نے 14 جنوری کو اپنی تازہ ترین ایڈوائزری میں تمام ہندستانی شہریوں،جن میں طلبہ، زائرین، کاروباری افراد اور سیاح شامل ہیں، کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر کمرشل فلائٹس کے ذریعے ایران سے روانہ ہو جائیں کیونکہ ملک کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ پہلے یونیورسٹی ہاسٹلز سے کچھ پیغامات موصول ہوتے رہے تھے جن سے تسلی ہو جاتی تھی، مگر گزشتہ چند دنوں سے وہ سلسلہ بھی مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
ادھر جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھی مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوں تو ہنگامی انخلا کے لیے جامع پلان ترتیب دیا جائے۔ ایسوسی ایشن کے نیشنل کنوینر ناصر کھویہامی کے مطابق، ایران کے مختلف صوبوں—تہران، اُرومیہ، شیراز، اصفہان اور مازندران میں تقریباً 2,000 کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
انہوں نے کہا، ’والدین فون پر زار و قطار رو رہے ہیں۔ ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ سفارتخانے اور طلبہ کے درمیان 24×7 ہیلپ لائن قائم کی جائے اور ہنگامی صورتحال میں انخلا پلان تیار رکھا جائے۔‘
والدین کا کہنا ہے کہ اب یقین دہانی کافی نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانا ناگزیر ہے۔ ایک والد نے کہا، ’ہم صرف ایک ہی اپیل کرتے ہیں—ہمارے بچوں کو محفوظ واپس لایا جائے۔‘
ایران میں تیزی سے بگڑتے حالات کے پیش نظر کشمیری والدین کی بے چینی ہر لمحہ بڑھتی جا رہی ہے اور ان کی ساری امیدیں حکومت ہند کی بروقت کارروائی سے وابستہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں