سری نگر،16جنوری(یو این آئی) وادی کشمیر کے بالائی علاقوں بشمول سیاحتی مقامات پر تازہ برفباری ہوئی ہے۔برفباری کے اس نئے سلسلے نے نہ صرف سردی بڑھا دی ہے بلکہ وادی کے موسم سرما کو بھی ایک نئی کروٹ دے دی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ گریز کے بیشتر حصوں میں دو انچ تک برف جمع ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برفباری دیر سے شروع ضرور ہوئی، لیکن اس تازہ سلسلے سے پانی کے ذخائر اور موسمِ بہار کی تیاریوں میں فائدہ ہوگا۔ گریز میں سڑکوں اور گلیوں پر برف کی تہہ جم چکی ہے اور ٹھنڈی ہوا نے ماحول مزید سخت کر دیا ہے۔
زوجیلا پاس، جو لداخ اور کشمیر کے درمیان اہم رابطہ ہے، بھی برف کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ یہاں تقریباً دو انچ برف پڑنے کے بعد ٹریفک کو انتہائی احتیاط سے گزارا جا رہا ہے۔ فوج اور ٹریفک حکام نے سڑکوں پر پھسلن کی وجہ سے بھاری گاڑیوں کو کچھ دیر کے لیے روک دیا، جبکہ مشینری کو برف ہٹانے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔
سادھنا ٹاپ میں تین انچ تک برفباری ریکارڈ ہوئی ہے جس سے کئی دیہاتی راستے دشوار ہو گئے ہیں۔ اس علاقے میں عام طور پر سردیوں میں سفر دشوار ہو جاتا ہے، اور تازہ برف نے حالات کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ لوگ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ادھر گلمرگ، سونہ مرگ اور دودھ پتھری جیسے سیاحتی مقامات پر بھی ہلکی برفباری ہوئی، جس نے ان وادیوں کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے۔
وادی کے میدانی علاقوں میں البتہ برف نہیں پڑی، لیکن آسمان ابر آلود رہا اور سردی پہلے سے زیادہ محسوس ہوئی۔ لوگوں کو دن بھر ٹھنڈی ہواؤں کا سامنا رہا جبکہ رات میں درجہ حرارت مزید کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ وادی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث آئندہ دو سے تین دن بھی برفباری اور بارش کے آثار موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سلسلے سے میدانی علاقوں میں بھی برف پڑنے کا امکان ہے۔
موسم کے اس تازہ بدلاؤ نے جہاں روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں امید بھی پیدا کی ہے کہ تاخیر سے آنے والی سردیوں کو اب مناسب برفباری ملنا شروع ہو گئی ہے، جو زرعی اور پانی کے نظام کے لیے ضروری ہے۔
0
