0

فن جادوگری،پنجراکاری کا وجود قصہ پارینہ

سرینگر//18جنوری/ یو این ایس / ماہرکاریگروں کی کمی،کشمیر کی لکڑی کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اوربیرون ریاستوں سے ریڈی میڈ پنجرﺅں کی در آمد ی کے نتیجے میں وہ خوبصورت پنجراکاری جس نے صدیوں سے کشمیر کی مساجد، درگاہوں اور سرکاری عمارتوں کو رونق بخشیں، اب قصہ پارینہ ہونے کے دور پر ہے ۔ نئے کاریگروں کی جانب سے اس فن کاریگری کو پنانے میں ہچکچاہٹ بھی پنجراکاری کے زوال کا باعث بن رہی ہے تاہم چند ایک کاریگروں کی امید افق ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ اس قدئم فن کو مرنے نہیں دیا جائے گا۔جالیوں کے کام کا ہنر، جسے مقامی طور پر پنجراکاری کے نام سے جانا جاتا ہے، کشمیر میں دم توڑ رہا ہے کیونکہ کوئی بھی اس فن کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔کشمیر میں اندرونی ڈیزائننگ کے سب سے پیچیدہ دستکاری کے زوال کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ محنت طلب اور مہنگی ہے۔پنجرکاری فن، کافی حد تک، ختم بند سے ملتا جلتا ہے، جس میں چھت کو لکڑی کے چھوٹے تختوں کے ساتھ مختلف ڈیزائنوں میں جوڑا جاتا ہے۔پیچیدہ اسلامی ہندسی ڈیزائنوں میں لکڑی کی جالی بنانا کشمیر کی سرزمین کے لیے منفرد ہنر ہے۔پائین شہر کے عالی مسجد عیدگاہ کے رہائشی آفتاب احمد، احمد پنجرا کاری کاریگر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کھڑکیوں پر پنجرا کاری کرنا اب قابل عمل کام نہیں رہا کیونکہ یہ بہت مہنگا ہے۔آفتاب کہتے ہیں”پنجراکاری اب اندرونی سجاوٹ کی جمالیات کو بڑھانے تک ہی محدود ہوگئی ہے“وادی بھر کی مساجد اور درگاہوں و آستانوں میں بہترین پنجرا کاری کے کام اب بھی موجود ہیں۔لسجن سرینگر سے تعلق رکھنے والے حاجی بشیر احمد نجار، جو پنجرا کاری سے بخوبی واقف ہیں، کہتے ہیں کہ کشمیر میں بہت کم پنجراکاریگر موجود ہیں کیونکہ کچھ فوت ہوچکے ہیں اور کچھ نے یہ کاریگری چھوڑ دی ہے۔نجار نے کہا کہ ہم نے نہ صرف کاریگر کو کھو دیا ہے بلکہ ہم نے اس فن کی سمجھ بھی کھو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جیومیٹری کا استعمال خوبصورتی اور کمال کی سطح کو حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا تھاجو ہم اب بھی روایتی کام میں پاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں 100 سے زیادہ مختلف پنجراکاری ڈیزائن ہیں اور کچھ استاد کاریگروں نے جدت کے ساتھ شاندار ڈیزائن تیار کیے ہیں۔ حاجی بشیر کا کہنا ہے کہ ’گل آفتاب اور دولے کوندورے جدید دور کے کاریگروں کے ذریعہ وسیع پیمانے پر بنائے گئے نمونے ہو سکتے ہیں، لیکن چنگس خانی، شاشتز، موج، موج حیدر، کندور، کریپ کوندرے، دعوز گرڈ، دعوزنجک، پنچ مرابہ، دیہہ تیز، دعوز دیہ، سہاش پہلو بھی بہے مقبول ہے۔پنجرا کاری کے نمونوں کا نام زیادہ تر فارسی میں رکھا گیا ہے جہاں اسی طرح کی ایک ایسی تصنیف جو عربی لفظ تک بھی پہنچی ہے اسے مشربیہ کہتے ہیں۔فن کے احیاءکو مشکل قرار دیتے ہوئے، نجار نے کہا”ہنر سیکھنے کے لیے جس صبر کی ضرورت ہوتی ہے وہ کام کرنے کے علاوہ بہت زیادہ محنت طلب اور صارفین کے لیے مہنگا ہوتا ہے۔“روایتی طریقے میں پنجراکاری مقامی طور پر دستیاب دیودار اور کی لکڑی پر کی جاتی تھی۔ پنجرے کو ہندسی شکلوں میں زیادہ تر’تنون‘ اور مخصوص قسم کے جوڑوں کا استعمال کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا تھا جسے مقامی طور پر ’کرپ واٹھ اور تر تہ ترام‘ فارمیٹ کہا جاتا ہے۔رام باغ کے محمد عباس نامی پنجرا کاریگر کا کہنا ہے کہ آج کل زیادہ تر کاریگراسے ٹھیک کرنے کے روایتی طریقے پر جانے کے بجائے مضبوطی حاصل کرنے کے لیے لکڑی کے جوڈوں میں گوند کا استعمال کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آج کل یہ د پنجراکاری کاریگر، سابقہ ڈیزائنوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ ڈیزائن مختلف سادہ سائنسی طریقوں کی پیداوار تھے جنہوں نے اس طرح کے پیچیدہ نمونے تیار کیے تھے۔حاجی بشیر کا کہنا ہے کہ اس کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ماسٹر کاریگروں کی کمی ہے“محمد عباس نے کہا کہ اس فن کو مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہالکڑی کافی مہنگی ہے اور ہم مصنوعات کی لاگت کو کم کرنے کے لیے کم قیمت کی عام لکڑی کا استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا” اگر حکومت مناسب نرخوں پر اچھی لکڑی فراہم کرے تو تجارت کو نفع بخش طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔“ پنجرا کاری کیلئے پہلے ہمالیائی سلور فر، بلیو پائن، اخروٹ، اور دیودار کی لکڑی کا استعمال ہوتا تھا“۔ بیرون ریاستوں سے ریڈی میڈ پنجرﺅں کی درآمد بھی مقامی طور پر اس فن کیلئے سم قاتل ثابت ہو رہی ہے۔مشینوں پر تیارہ کردہ ان پنجرﺅں کی قیمتیں مقامی پنجرای کاری کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہیں،جس کیلئے خریدار اب بیرون ریاست پنجرﺅں کو ہی پسند کرتے ہیں۔ جموں کشمیر میںپنجراکاری کا آغاز 1373 عیسوی میں اسلام کی آمد سے ہوا۔ شاہ ہمدان حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کشمیر تشریف لائے اور ان کے ساتھ آنے والے پنجرا کاری کاریگر جنوبی کشمیر کے علاقے گڑ میں آباد ہوئے جو بجبہاڑہ اور اسلام آباد کے درمیان ہے۔کچھ علاقوں میں انہوں نے پتھر میں پنجراکاری میں کمال حاصل کیا تو یہاں لکڑی کا استعمال کرکے اپنی پہچان بنائی اور اسے ہر نئی مسجد اور درگاہ۔خانقاہ کی زینت بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور یہ 19ویں صدی کے آخر میں امیروں کے گھروں کا حصہ بن گیا۔ڈوگرہ دور میں، پنجراکاری کا استعمال مختلف عمارتوں میں ہوتا تھا لیکن اس کے بعد سے اس میں مسلسل کمی واقع ہوئی، حالانکہ یہ دستکاری اب بھی سیاحتی ہٹوں اور کچھ سرکاری عمارتوں میں استعمال ہوتی ہے۔کرافٹ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے اس دم توڑتی دستکاری کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں