0

اجیت پوار سے پہلے بھی کئی سیاست دانوں نے گنوائی ہے فضائی حادثے میں جان

نئی دہلی، 28 جنوری (یو این آئی) مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر اجیت پوار کی بدھ کو طیارہ حادثہ میں موت ہونے سے قومی سیاست میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اگرچہ آزاد ہندوستان میں فضائی حادثے عام تو نہیں رہے، لیکن مسٹر پوار جیسے کئی سیاست دان ان میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق کم از کم سات نامور سیاستدان ہوائی جہاز/ہیلی کاپٹر حادثات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
1. اجیت پوار – عمر 66
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور سینئر لیڈر اجیت پوار بارامتی میں لینڈنگ کے دوران طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ مسٹر پوار مہاراشٹر کے آٹھویں نائب وزیر اعلیٰ تھے اور وہ کل چھ مرتبہ اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کے پاس فائنانس، پلاننگ، ایکسائز، کھیل اور اقلیتی ترقی کے قلمدان بھی تھے۔ انہوں نے اپنے کئی دہائیوں کے سیاسی کیریئر میں مہاراشٹر کی پالیسی اور مالیاتی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
2. سنجے گاندھی – عمر 33
اندرا گاندھی کے بیٹے اور کانگریس لیڈر سنجے گاندھی کی 23 جون 1980 کو دہلی میں ایک چھوٹے طیارے کے حادثے میں موت ہوگئی تھی۔ انہیں کانگریس کی نئی نسل کا چہرہ سمجھا جاتا تھا، اور ان کی موت کا قومی سیاست پر اثر پڑا۔
3. مادھوراؤ سندھیا – عمر 56
کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق شہری ہوا بازی کے وزیر مادھو راؤ سندھیا کا 30 ستمبر 2001 کو اس وقت انتقال ہو گیا جب ان کا نجی طیارہ اتر پردیش میں گر کر تباہ ہو گیا۔ وہ ریاست گوالیار کے آخری مہاراجہ جیواجی راؤ سندھیا کے بیٹے تھے۔ ایک سیاست دان کے طور پر، وہ مختلف اوقات میں سول ایوی ایشن، سیاحت، اور انسانی وسائل کی ترقی کے محکموں پر فائز رہے۔
4. جی ایم سی بال یوگی – (عمر 50)
تیلگو دیشم پارٹی کے رہنما اور لوک سبھا اسپیکر بالیوگی کی 3 مارچ 2002 کو ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہوگئی تھی۔ مسٹر بالیوگی نہ صرف ایک سیاست دان تھے بلکہ ایک وکیل بھی تھے۔ املاپورم لوک سبھا حلقہ سے ممبر پارلیمنٹ، مسٹر بالیوگی پہلی بار 1991 میں لوک سبھا کے اسپیکر بنے اور اپنی موت تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ لوک سبھا کے پہلے دلت اسپیکر کے طور پر مشہور تھے۔ ان کی موت آندھرا پردیش کے ضلع کرشنا کے کیکلور میں بیل 206 ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہوئی۔
5. وائی ایس راج شیکھر ریڈی – (عمر 60)
آندھرا پردیش کے 14 ویں وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی 2 ستمبر 2009 کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہوگئی تھی۔ وہ کڈاپا لوک سبھا حلقہ سے چار بار رکن پارلیمنٹ رہے تھے۔ وہ اپنے سیاسی کیرئیر میں کبھی ایک الیکشن نہیں ہارے۔ ان کا دور ریاست کے سماجی و اقتصادی پروگراموں کی مقبولیت سے نمایاں تھا۔ 2 ستمبر 2009 کو مسٹر ریڈی کا ہیلی کاپٹر نالہ مالا جنگلاتی علاقہ میں لاپتہ ہوگیا تھا۔ بعد میں ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی اور مسٹر ریڈی سمیت چھ افراد کو مردہ قرار دیا گیا۔
6. دورجی کھانڈو – (عمر 56)
اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ دورجی کھانڈو 30 اپریل 2011 کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ انہوں نے سات سال تک انڈین آرمی انٹیلی جنس کور میں خدمات انجام دیں۔ وہ ریاست کی ترقی اور بالائی علاقائی سیاست میں بااثر تھے۔ بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران نمایاں خدمات پر انہیں گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ وہ دو بار اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ رہے۔ مسٹر کھانڈو کا ہیلی کاپٹر 30 اپریل 2011 کو لاپتہ ہوگیا تھا اور پانچ دن کی تلاش کے بعد مقامی لوگوں نے 4 مئی کو گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کی باقیات برآمد کی تھیں۔
7. او پی جندال/سریندر سنگھ – (عمر 74/58)
ہریانہ کے وزیر توانائی اور صنعت کار او پی جندال کی 31 مارچ 2005 کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہو گئی تھی، جس میں سابق مرکزی وزیر سریندر سنگھ بھی شامل تھے۔ مسٹر جندال پہلی بار 1996 میں کروکشیتر لوک سبھا سیٹ جیت کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ موت کے وقت وہ ہریانہ کے وزیر توانائی تھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں