نئی دہلی، 29 جنوری (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کے ماہرین سے کہا ہے کہ ملک میں ایک شفاف، منصفانہ اور محفوظ اے آئی ماحولیاتی نظام تیار کیا جائے۔ انہوں نے ڈیٹا سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے جمہوری استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے اخلاقی استعمال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
جمعرات کو لوک کلیان مارگ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر وزیر اعظم نے اے آئی کے شعبے میں کام کرنے والے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) اور ماہرین سے گفتگو کی۔
اس دوران انہوں نے کہاکہ “ہمیں ایسا اے آئی ماحولیاتی نظام تیار کرنا چاہیے جو شفاف، منصفانہ اور محفوظ ہو۔” انہوں نے اے آئی کے اخلاقی استعمال، ہنر کی ترقی اور صلاحیتوں کے فروغ پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے اپیل کی کہ ہندوستان کا اے آئی ماحولیاتی نظام قوم کے کردار اور اقدار کی عکاسی کرے۔
یہ پروگرام فروری میں منعقد ہونے والے ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ’ کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں اسٹریٹجک تعاون بڑھانے، اے آئی جدتوں کو پیش کرنے اور ہندوستان کے اے آئی مشن کے اہداف کو تیز کرنے پر بات چیت کی گئی۔ گفتگو کے دوران سی ای اوز نے اے آئی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کے ہدف کی حمایت کی اور ہندوستان کو عالمی سطح پر اے آئی میں رہنما بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔
وزیر اعظم نے تمام شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی اپنانے اور اس کے ذریعے قومی ترقی میں تعاون دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اہم شعبوں میں دیسی ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی اپیل کی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تمام افراد اور کمپنیاں اس سمٹ سے فائدہ اٹھا کر نئے مواقع تلاش کریں اور ترقی کی راہ میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ‘یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس’ (یو پی آئی) کے ذریعے ہندوستان نے اپنی تکنیکی صلاحیت دکھائی ہے، اسی طرح اے آئی کے شعبے میں بھی یہ کامیابی دہرائی جا سکتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے پاس پیمانے، تنوع اور جمہوریت کا ایک منفرد امتزاج ہے جس کی وجہ سے دنیا ہندوستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر اعتماد کرتی ہے۔ ‘اے آئی فار آل’ کے نظریے کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ٹیکنالوجی سے اثر پیدا کرنا چاہیے اور دنیا کو متاثر کرنا چاہیے۔ انہوں نے سی ای اوز اور ماہرین سے کہا کہ ہندوستان کو عالمی اے آئی کوششوں کے لیے پسندیدہ منزل بنایا جائے۔
اس پروگرام میں وپرو، ٹاٹا کنسلٹنسی، ایچ سی ایل، زوہو، جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ اور اڈانی کونیکس جیسی کمپنیوں کے سی ای اوز اور آئی آئی ٹی حیدرآباد، مدراس اور بمبئی کے ماہرین شامل تھے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت جتن پرساد نے بھی اس گفتگو میں حصہ لیا۔
0
