سرینگر//31جنوری / جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا پانچواں اجلاس 2 فروری سے شروع ہونے جا رہا ہے، تاہم اس اہم اجلاس سے قبل ایوان میں ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ تاحال خالی ہونا سیاسی و آئینی حلقوں میں سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کی جانب سے اس کلیدی آئینی منصب کو پ ±ر نہ کیے جانے پر اپوزیشن کی جانب سے بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں کا انتخاب “جلد از جلد” کرے۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنماعبدالرحیم رادر کو 4 نومبر 2023 کو اسمبلی کے پہلے اجلاس میں متفقہ طور پر اسپیکر منتخب کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد سے ڈپٹی اسپیکر کی کرسی خالی پڑی ہے۔اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل اسپیکر کی جانب سے مقررہ تاریخ پر ایوان میں تحریک پیش کیے جانے کے بعد شروع ہوتا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق یہ عمل حکومت کی جانب سے شروع کیا جانا ضروری ہے، جو اب تک نہیں ہو سکا۔سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے سیاسی ہچکچاہٹ اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جہاں نیشنل کانفرنس بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ عہدہ دینے پر آمادہ نظر نہیں آتی، وہیں بی جے پی نے بھی باضابطہ طور پر اس عہدے پر اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا۔ نیشنل کانفرنس کے چیف وہپ مبارک گل سے اس معاملے پر رابطہ کرنے کی کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ادھر بی جے پی کے جنرل سیکریٹری (تنظیم) **اشوک کول** نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ یہ عہدہ اپوزیشن کو دیا جائے، حکومت اپنے ہی کسی رکن کو بھی اس منصب پر فائز کر سکتی ہے۔یو این ایس کے مطابق دوسری جانب آنے والے بجٹ اجلاس کو مزید مو ¿ثر بنانے کے لیے اسمبلی میں **ڈبل نشستوں** (ڈبل سِٹنگز) کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اسپیکر عبدالرحیم رادر کی صدارت میں منعقدہ آل پارٹی کم بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماو ¿ں نے اجلاس کے دوران وقت کی کمی کا مسئلہ اٹھایا۔کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے قائدغلام احمد میر نے کہا کہ بیشتر اراکین نے مطالبہ کیا کہ اجلاس کا وقت صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک رکھا جائے تاکہ اراکین کو عوامی مسائل اٹھانے اور حکومت سے جواب طلب کرنے کا مناسب موقع مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر کے پاس متعدد محکمے ہونے کی وجہ سے محدود وقت میں بجٹ گرانٹس پر بحث انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر پاتی۔سی پی ایم کے سینئر رہنما اور پانچ مرتبہ کے رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی نے بھی پورے بجٹ اجلاس کو ڈبل نشستوں میں منعقد کرنے کی وکالت کی تاکہ حکومت کو مو ¿ثر طور پر جواب دہ بنایا جا سکے۔ اسپیکر نے تمام جماعتوں کو یقین دلایا کہ بجٹ اجلاس کا بڑا حصہ ڈبل سٹنگز میں منعقد کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران اسپیکر نے تمام پارٹی قائدین سے اپیل کی کہ وہ سوال گھنٹے میں خلل نہ ڈالیں کیونکہ یہ عوامی مسائل کو ایوان میں اٹھانے کا اہم ذریعہ ہے۔ تمام جماعتوں نے سوال گھنٹے کو پرامن طور پر چلانے کی یقین دہانی کرائی۔بجٹ اجلاس کا آغاز 2 فروری کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے ہوگا، جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ 6 فروری کو اپنا دوسرا بجٹ پیش کریں گے۔ اجلاس 4 اپریل تک جاری رہے گا، تاہم رمضان اور نورتری کے پیش نظر 20 فروری سے 26 مارچ تک وقفہ دیا جائے گا۔ اس پورے اجلاس میں کل 22 نشستیں ہوں گی، جن میں پہلی مدت میں 15 اور دوسری مدت میں 7 نشستیں شامل ہیں۔ڈپٹی اسپیکر کے بغیر ایک اور اجلاس کا انعقاد جہاں آئینی تقاضوں پر سوال اٹھا رہا ہے، وہیں بجٹ اجلاس کے دوران وقت بڑھانے کا فیصلہ عوامی نمائندوں کو مزید مواقع فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
0
