ری نگر،8 فروری(یو این آئی)نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مسجد کے اندر ہونے والا خوفناک دھماکہ نہ صرف افسوسناک ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے گھر میں خون بہانا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اپنی سوچ اور عمل دونوں میں اللہ سے بہت دور چلے گئے ہیں اور ایسا راستہ اختیار کرلیا ہے جو سیدھا تباہی اور جہنم کی طرف جاتا ہے۔
اتوار کے روز ڈاکٹر فاروق عبداللہ پامپور کے معروف سماجی کارکن محمد ریاض حمدانی کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے تھے جہاں ان کی والدہ کے انتقال پر سوگوار خاندان سے اظہار ہمدردی کی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ اب دھماکے مساجد جیسے مقدس مقامات پر ہونے لگے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان معاشرے میں انتشار، غلط فہمیوں اور تشدد نے گہری جڑیں پکڑ لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری مسلم دنیا اس وقت بدنظمی اور بے چینی کی کیفیت سے گزر رہی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے اسباب کو سمجھ کر اصلاح کی جائے۔
پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر عبداللہ نے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ایسے حملے کسی بھی مذہب، قوم یا ملک کے لیے باعث شرم اور انتہائی تکلیف دہ ہیں۔
اسلام آباد کے ترلائی علاقے میں واقع خدیجۃ الکبریٰ(رض) مسجد میں جمعہ کے روز اس وقت تباہ کن دھماکہ ہوا جب نمازی جمعہ کی نماز کے دوران سجدے کی حالت میں تھے۔ خودکش حملہ آور مسجد میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ابتدا میں 31 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، تاہم بعد میں اسپتالوں میں زخمیوں کے دم توڑنے کے بعد تعداد بڑھ کر 36 تک پہنچ گئی، جبکہ 169 سے زیادہ نمازی زخمی ہیں۔ پاکستان میں داعش کے مقامی گروہ ’اسلامک اسٹیٹ اِن پاکستان‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر معصوم جانوں کا قتل کسی بھی طور جائز نہیں اور ایسے حملے انسانیت کو گہری تاریکی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
0
