0

جموں و کشمیر اسمبلی میں ایس اے ایس سی آئی اسکیم پر ہنگامہ، پی ڈی پی کا سخت حملہ، بی جے پی کا واک آؤٹ

جموں،9 فروری (یو این آئی) جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا پیر کا اجلاس اس وقت شدید ہنگامہ آرائی کی لپیٹ میں آ گیا جب پی ڈی پی کے رکنِ اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ساسکی اسکیم کے ذریعے جموں و کشمیر کو قرض کے جال میں دھکیل رہی ہے۔ پرہ کی تقریر پر نہ صرف این سی اراکین نے سخت ردعمل ظاہر کیا بلکہ ایوان میں شور شرابے کے مناظر دیکھنے کو ملے اور کارروائی کو مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی ملتوی کرنا پڑا۔
بحث کے دوران پی ڈی پی اور این سی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا جبکہ دوسری طرف بی جے پی اراکین نے بھی احتجاج شروع کر دیا اور الزام لگایا کہ انہیں بجٹ بحث میں بولنے کا مناسب موقع نہیں دیا جا رہا۔ چند بی جے پی اراکین نے ایوان کے وسط کی طرف بھی بڑھنے کی کوشش کی مگر سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا، جس کے بعد بی جے پی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
اپنی تقریر میں وحید پرہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ ساسکی کوئی فلاحی اسکیم نہیں بلکہ ایک خطرناک قرض منصوبہ ہے جس سے جموں و کشمیر کو ’صنعتی گھرانوں کے آگے رہن‘ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد این سی کو ریاست کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھاری مینڈیٹ ملا تھا مگر اس مینڈیٹ کو پورا کرنے کے بجائے حکومت پوری ریاست کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں بیچنے کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ پرہ نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس اسکیم پر نظر ثانی کریں تاکہ جموں و کشمیر کو سری لنکا اور پاکستان جیسے معاشی بحران سے بچایا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے جواب دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اپوزیشن سیاسی تماشا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساسکی ترقیاتی معاونت کا فریم ورک ہے اور اپوزیشن بلاوجہ اسے قرض کا جال بتا رہی ہے۔ اسپیکر کی کرسی سنبھالے مبارک گُل مسلسل ایوان کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر ایوان کا ماحول بگڑتا گیا اور بالآخر کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا۔
رکنِ اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے بجٹ بحث کے دوران یہ بھی کہا کہ گزشتہ مالی سال کے 1.40 لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ میں سے 40 ہزار کروڑ ریونیو اخراجات کے لیے مختص تھے جبکہ صرف 7,600 کروڑ روپے کیپیٹل اخراجات کے لیے تھے۔ ان کے مطابق مالی سال کے اختتام میں حکومت صرف 12 فیصد اخراجات خرچ کر پائی ہے اور درجنوں اہم پروجیکٹس میں اب تک کوئی خرچ نہیں دکھایا گیا۔ انہوں نے زرعی، باغبانی، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں مالی تعطل پر تشویش ظاہر کی۔ ساتھ ہی انہوں نے بے روزگاری کی بلند شرح کے پیش نظر 50 کروڑ روپے کی فیسوں کی واپسی کا مطالبہ بھی اٹھایا۔
رکنِ اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے منشیات اورشراب کی کی بڑھتی وبا، تقریباً پانچ لاکھ افراد کے منشیات کے شکار ہونے اور کینسر کے بڑھتے واقعات کو ’خاموش سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سنگین مسئلے پر بھی خاموش ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی سے وابستہ 215 اسکولوں کی بندش سے 50 ہزار طلبہ کے متاثر ہونے پر بھی حکومت سے وضاحت مانگی اور قومی قانون یونیورسٹی کے لیے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہ ہونے پر ناراضگی ظاہر کی۔
ایوان میں بڑھتی بد نظمی، پی ڈی پی اور این سی کے درمیان لفظی جنگ اور بی جے پی کے احتجاج نے ماحول کو مزید گرم کر دیا، جس کے باعث مبارک گُل نے کارروائی کو دوپہر 2:30 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں