0

سندھ آبی طاس معاہدے کی معطلی جموں کیلئے طویل مدتی آبی تحفظ کا منصوبہ

ویشنو دیوی روپ وے کی منظوری کابینہ نے نہیں، لیفٹیننٹ گورنر نے دی// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
تلبل نیوی گیشن اور چناب آبی منصوبوں پر جلد کام شروع ہونے کی امید
سرینگر//10فروری//یو این ایس جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ حکومت جموں خطے میں آئندہ 30 سے 50 برسوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی آبی تحفظ کا جامع منصوبہ تیار کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے سندھ طاس معاہدے کی موجودہ معطلی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق ادھر ویشنو دیوی روپسے منصوبے پر اسمبلی میں جاری تنازعہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس منصوبے کی منظوری نہ تو کابینہ نے دی اور نہ ہی یہ انتظامی کونسل کا فیصلہ ہے، بلکہ اس کی منظوری لیفٹیننٹ گورنر نے حکومت کی تشکیل سے قبل دی تھی۔جموں میں اسمبلی اجلاس کے دوران سوالیہ گھنٹہ میں بی جے پی کے کئی اراکین، جن میں شام لال شرما شامل تھے، نے جموں میں پانی کی قلت کا مسئلہ اٹھایا۔ اس پر جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ ناکارہ ٹیوب ویلوں اور دیگر آبی ذرائع کی بحالی پر کام ہو رہا ہے، تاہم یہ اقدامات وقتی نوعیت کے ہیں اور مستقبل کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محض وقتی حل ایسے ہیں جیسے زخم پر پٹی باندھ دی جائے، جبکہ اصل ضرورت آئندہ کئی دہائیوں کے لیے منصوبہ بندی کی ہے، کیونکہ روایتی آبی ذرائع تیزی سے ناکافی ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بڑے آبی انفراسٹرکچر منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ جموں کو مستقل بنیادوں پر آبی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ اور دریائے چناب سے پانی موڑ کر جموں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے منصوبوں پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کی معطلی کے بعد ریاستی حکومت مرکز کے ساتھ مل کر ان اہم آبی منصوبوں کو شروع کرنے پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کے تعاون سے دو بڑے منصوبوں پر پیش رفت کی جا رہی ہے، جن میں پہلا سوپور کے نزدیک تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ اور دوسرا اکھنور کے مقام پر دریائے چناب سے پانی اٹھا کر جموں شہر کو آبی سپلائی فراہم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ چناب واٹر سپلائی منصوبہ اس سے قبل ایشیائی ترقیاتی بینک کو پیش کیا گیا تھا، تاہم سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے اس پر عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف جموں و کشمیر میں آبی مسائل حل ہوں گے بلکہ خطے کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کو بھی تقویت ملے گی۔یو این ایس کے مطابق اسی دوران ویشنو دیوی روپسے منصوبے پر ایوان میں پیدا ہونے والے تنازعہ پر وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک رکن اسمبلی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس منصوبے کو کابینہ نے منظوری دی ہے، تاہم سرکاری ریکارڈ کی جانچ سے ثابت ہوا کہ نہ تو کابینہ اور نہ ہی اس وقت کی انتظامی کونسل نے اس منصوبے کی منظوری دی تھی۔انہوں نے کہا کہ ستمبر 2024 میں لیفٹیننٹ گورنر کے دورے کے دوران یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا گیا تھا اور انہوں نے بطور مجاز اتھارٹی اس منصوبے کو منظوری دی، جو حکومت کی تشکیل سے تقریباً ایک ماہ قبل دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایوان اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوششوں کو روکنا ضروری ہے اور اسی لیے ریکارڈ درست کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق ویشنو دیوی روپسے منصوبے پر کٹرا کے مقامی لوگ مخالفت کر رہے ہیں۔ 250 کروڑ روپے کے اس منصوبے کے تحت تارا کوٹ مارگ سے سنجی چھت تک روپسے تعمیر کی جانی ہے، جس کا مقصد معذور اور بزرگ یاتریوں کو سہولت فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے اس موقع پر بی جے پی رکن اسمبلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کے ساتھ سیاست بند ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی ہندو ہیں لیکن مذہب کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرتے۔بعد ازاں بی جے پی رکن اسمبلی نے ایک سرکاری حکم نامہ دکھایا اور الزام لگایا کہ حکومت، خاص طور پر نائب وزیر اعلیٰ، کٹرا میں عوام کو احتجاج پر اکسا رہی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس حکم نامے کا کابینہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں