0

من کی بات میں وزیر اعظم مودی نے ملک کے کسانوں کو زمین کا حقیقی نگہبان قرار دیا

نئی دہلی، 22 فروری (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز اپنے پروگرام ’’من کی بات‘‘ میں ملک کے کسانوں کی محنت اور اختراع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کسان صرف اَنّ داتا ہی نہیں بلکہ زمین کے حقیقی نگہبان بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کا کسان روایت اور ٹیکنالوجی دونوں کو ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ اب کسان صرف زیادہ پیداوار پر ہی نہیں بلکہ معیار، ویلیو ایڈیشن اور نئی منڈیوں پر بھی توجہ دے رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے اڈیشہ کے نوجوان کسان ہیرود پٹیل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ سال پہلے تک وہ اپنے والد شیو شنکر پٹیل کے ساتھ روایتی طریقے سے دھان کی کاشت کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے نئے انداز سے کھیتی شروع کی۔ تالاب کے اوپر جالی دار ڈھانچہ بنا کر اس پر بیل دار سبزیاں اگائیں، تالاب کے اردگرد کیلا، امرود اور ناریل لگائے اور تالاب میں مچھلی پالنا بھی شروع کیا۔ اس طرح ایک ہی جگہ پر دھان، سبزی، پھل اور مچھلی کی پیداوار ہونے لگی۔ اس سے زمین اور پانی کا بہتر استعمال ہوا اور آمدنی بھی بڑھی۔ آج کئی کسان ان کا ماڈل دیکھنے آتے ہیں۔
انہوں نے کیرالہ کے ضلع تھریسور کے ایک گاؤں کا بھی ذکر کیا جہاں ایک ہی کھیت میں دھان کی 570 اقسام اگائی جاتی ہیں۔ ان میں مقامی، جڑی بوٹیوں والی اور دیگر ریاستوں سے لائی گئی اقسام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف کھیتی نہیں بلکہ بیجوں کی وراثت کو بچانے کی مہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان آج دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے اور یہاں 15 کروڑ ٹن سے زیادہ چاول پیدا ہو رہا ہے۔ ہندوستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی غذائی ضروریات میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے یہ بھی بتایا کہ اب زرعی مصنوعات ہوائی راستے سے بیرونِ ملک بھیجی جا رہی ہیں۔ کرناٹک کے ننجنگُڈ کیلے، میسورو کے پان کے پتے اور اِنڈی کے لیموں کو مالدیپ برآمد کیا گیا ہے۔ یہ مصنوعات اپنے ذائقے اور معیار کے لیے مشہور ہیں اور انہیں جی آئی ٹیگ بھی ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا کسان معیار اور مقدار دونوں بڑھا رہا ہے اور عالمی منڈی میں اپنی الگ شناخت بنا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں