سرینگر /22فروری / مقدس ماہ رمضان کی شروعات کے ساتھ ہی بازاروں میں اشیائے خوردنی کی چیزوں کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کی عوامی حلقوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے فوڈ سیفٹی محکمہ کی جو کارورائیاں ہوئی ہے انہیں مزید متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ چیکنگ اسکارڈ کو روزانہ بنیادوں پر تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق ماہ رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہو چکا ہے اور عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ اس مقد س ماہ کے دوران کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کیلئے سرکار ی سطح پر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ خبر رساں ادارہ کے خصوصی نمائندے پرویز وانی کے ساتھ بات کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہا کہ چونکہ ماہ رمضان کی شروعات ہو چکی ہے اور یہ ماہ مسلمان اسلام کیلئے رحمتوں اور برکتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے تاہم اس ماہ کے دوران بازاروں میں گراں فروشی عروج پر ہوتی ہے جس کو کنٹرول کرنے کی اشدت ضرورت ہے ۔ عبد الرشید نامی ایک شہری نے بتایا ” ماہ رمضان کی شروعات ہوتے ہی قصابوں ، سبزی و میوہ فروشوں کے علاوہ فرغ فروشوں کی جانب سے من مانی شروع ہوتی ہے اور لوگوں کو لوٹنے کیلئے کوئی کثر باقی نہیں چھوٹی جا رہی ہے تاہم اس سب کو کنٹرول کرنا لازمی ہے ۔ “ انہوں نے کہا ” صارفین کو خدشہ ہے کہ سخت نگرانی کے بغیر گوشت ، کھجور، پھل، سبزیوں اور مرغی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس سے بہت سے خاندانوں کے لیے افطار اور سحری کیلئے ضروری اشیا کا حصول مشکل ہو جائے گا“۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سب پر کنٹرول کرنے کیلئے چیکنگ اسکارڈ کو مزید متحرک کیا جائے اور روزانہ کی بنیادوں پر بازاروں میں ان کا معائنہ کرایا جائے ۔ ادھر عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ کوئی بھی گوشت کی قیمتوں پر نظر نہیں رکھتا، جو فی الحال 700 روپے فی کلو مقرر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم، بہت سے قصاب بڑھتی ہوئی مانگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں۔ایک اور شہری نے کہا ” پچھلے سال، ہمیں متعدد قیمتوں پر گوشت خریدنا پڑا ، کچھ جگہوں پر ایک قیمت پر اور کچھ جگہوں پر دوسری قیمت پر۔ اس بار، حکومت کو اس طرح کے استحصال کو روکنے کے لیے پیشگی کارروائی کرنی چاہیے۔ “ محکمہ خوراک، سول سپلائیز اور کنزیومر افیئرس کے حکام نے تسلیم کیا کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بے بس ہیں۔ ایک اہلکار نے کہا”ہم بھی صارفین ہیں اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دیکھ رہے ہیں، لیکن ہم بے بس ہیں“‘۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارورائیوں کو روکنے کیلئے ہم اقدامات اٹھا رہے ہیں اور قصورواروں کیخلاف مناسب کارورائی ہو گی ۔
0
