تہران، 28 فروری (یو این آئی) ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اب صورت حال ان کے قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں ابراہیم عزیزی نے براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمہیں پہلے ہی خبردار کیا تھا! انہوں نے مزید کہا کہ اب تم نے ایک ایسے راستے پر قدم رکھ دیا ہے جس کا انجام اب تمہارے اختیار میں نہیں رہا۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ تہران ان حملوں کا جواب دینے کے لیے بھرپور تیاری کر رہا ہے۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی جارحیت کا جواب انتہائی سخت اور تباہ کن (Crushing) ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری پر ہونے والے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور جوابی کارروائی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جنگی جنون میں مبتلا اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کردیا ہے، عالمی خبر رساں ادارے نے ایرانی اہلکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے وقت سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے، بلکہ انہیں پہلے ہی کسی انتہائی خفیہ اور محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن میں ایران کے کسی انتہائی اعلیٰ حکومتی عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق ایران پر اس بڑے حملے کی تاریخ اور منصوبے کا فیصلہ کئی ہفتے قبل ہی کر لیا گیا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق تہران کے علاوہ ایران کے دیگر شہروں اصفہان، کرمانشاہ اور قم میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ حملوں کے بعد تہران کے کچھ حصوں میں موبائل فون لائنز منقطع ہو گئی ہیں اور انٹرنیٹ کی رفتار میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
0
