واشنگٹن، 3 فروری (یو این آئی) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ ایران پرتباہ کن حملہ ہونا باقی ہے،اگلا حملہ انتہائی خطرناک ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں اور مستقبل کے عزائم کے حوالے سے کہا ایران پر حالیہ حملہ عالمی تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، امریکی کارروائیوں نے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کی جانب سے کسی حملے کا انتظار نہیں کر سکتا تھا، اس لیے اپنے دفاع میں یہ قدم اٹھایا گیا۔
مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ ایران پر اصل تباہ کن حملہ ہونا ابھی باقی ہے اور اگلا حملہ انتہائی خطرناک ہوگا۔
وزیر خارجہ نے امریکی مشن کے بنیادی مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہمارا مشن ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت اور اس کی نیوی کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے، امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران مستقبل میں دوبارہ کبھی بیلسٹک میزائل یا ایٹم بم نہ بنا سکے، ایران کے پاس میزائل یا ایٹمی طاقت ہونے کا مطلب پوری دنیا کو یرغمال بنانا ہے۔
مارکو روبیو نے ایرانی حکومت (رجیم) اور وہاں کے عوام کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا موجودہ ایرانی رجیم عوام کی نمائندہ نہیں ہے، جس کا ثبوت ایران کی سڑکوں پر ہونے والے بڑے احتجاج ہیں تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام خود اس حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی عوام کو مدد کی ضرورت ہوئی تو امریکہ کے دروازے کھلے ہیں، تاہم موجودہ کارروائی کا مقصد براہِ راست ‘حکومت کی تبدیلی’ نہیں بلکہ ‘دفاعی صلاحیت کا خاتمہ’ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ایران بوکھلاہٹ میں غیر متعلقہ جگہوں کو نشانہ بنا رہا ہے ایران ہوائی اڈوں، ہوٹلوں، رہائشی علاقوں اور سفارت خانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ امریکی انتظامیہ تمام قوانین کی پابندی کر رہی ہے اور کانگریس کے “گینگ آف ایٹ” (Gang of Eight) گروپ کو ان تمام کارروائیوں اور بریفنگز سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے
0
