نئی دہلی، 3 مارچ (یواین آئی) ہندوستان نے منگل کو مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مقدس ماہِ رمضان کے دوران بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورتحال شہریوں، علاقائی استحکام اور خلیج میں مقیم تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہریوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ نئی دہلی نے ابتدائی طور پر 28 فروری 2026 کو ایران اور خلیج خطے میں دشمنی شروع ہونے پر اپنی “گہری تشویش” ظاہر کی تھی اور تمام فریقوں سے تحمل اور کشیدگی سے بچنے کی اپیل کی تھی۔ ترجمان نے کہاکہ “بدقسمتی سے رمضان کے مقدس مہینے میں خطے کی صورتحال مسلسل بگڑ گئی ہے۔”
حکومت نے نوٹ کیا کہ تنازعہ نہ صرف حالیہ دنوں میں شدت اختیار کر گیا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل گیا ہے، جس سے وسیع تر عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ بیان میں کہا گیاکہ “تباہی اور اموات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ معمول کی زندگی اور اقتصادی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں۔ بطور قریبی پڑوسی، جس کے علاقائی سلامتی اور استحکام میں اہم مفادات ہیں، یہ پیش رفت شدید تشویش پیدا کرتی ہے۔”
ہندوستان کی تشویش اس کے شہریوں کی بڑی تعداد سے جڑی ہے جو خلیج میں رہتے ہیں۔ بیان کے مطابق تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی اس خطے میں رہتے اور کام کرتے ہیں، جس سے ان کی سلامتی اور فلاح حکومت کی “انتہائی ترجیح” ہے۔ ترجمان نے کہاکہ “ہم کسی بھی ایسی پیش رفت سے لاتعلق نہیں رہ سکتے جو انہیں منفی طور پر متاثر کرے۔”
انسانی پہلو سے آگے بڑھتے ہوئے نئی دہلی نے سنگین اقتصادی اثرات کی نشاندہی کی۔ ہندوستان کی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین تنازعہ زدہ جغرافیہ سے گزرتی ہے، اور کسی بڑی رکاوٹ کے سنگین نتائج ملکی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ حکومت نے تجارتی جہازوں پر حملوں کی سخت مخالفت بھی کی، حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن میں ہندوستانی شہری ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔ بیان میں کہا گیاکہ “بطور ملک، جس کے شہری عالمی ورک فورس میں نمایاں ہیں، ہندوستان تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی سخت مخالفت کرتا ہے۔”
اپنی سفارتی پالیسی دہراتے ہوئے ہندوستان نے فوری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی واپسی کی اپیل کی۔ ترجمان نے کہاکہ “اس پس منظر میں ہندوستان مذاکرات اور سفارت کاری کی اپیل کو مضبوطی سے دہراتا ہے۔ ہم اپنی آواز بلند کرتے ہیں کہ تنازعہ جلد ختم ہو۔”
ہندوستانی مشن نے متاثرہ ممالک میں ڈائسپورا کے ساتھ رابطہ بڑھا دیا ہے، کمیونٹی تنظیموں سے قریبی رابطے میں رہتے ہوئے باقاعدہ مشورے جاری کیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سفارت خانے اور قونصل خانے پھنسے ہوئے افراد کو “تمام ممکنہ مدد” فراہم کر رہے ہیں اور قونصلر مسائل کو فعال طور پر حل کرتے رہیں گے۔
سفارتی سطح پر ہندوستان نے کہا کہ وہ خطے کی حکومتوں اور دیگر اہم شراکت داروں سے رابطے میں ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کی ہے تاکہ صورتحال پر نظر رکھی جا سکے اور قومی مفادات کو محفوظ بنایا جا سکے۔
0
