0

ہندوستان کی پالیسیوں کا تعین دہلی میں ہونا چاہیے، کہیں اور نہیں: فاروق عبداللہ

سری نگر،7 مارچ (یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کے لیے دی گئی عارضی رعایت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے فیصلے کوئی اور نہیں بلکہ خود ہندوستان کو کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک آزاد ملک ہونے کے ناطے ہندوستان کو اپنی پالیسیوں کے حوالے سے کسی دوسرے ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ ہم خود مختار ہونے کے باوجود دوسرے ممالک کے فیصلوں کے منتظر رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک بڑا اور خود مختار ملک ہے اور اسے یہ فیصلہ خود کرنا چاہیے کہ اس کے مفاد میں کیا بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو کسی بھی معاملے میں بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر ہندوستان کو روس سے تیل خریدنا مناسب لگتا ہے تو اس کا فیصلہ بھی ہندوستان کو خود ہی کرنا چاہیے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے کہنے پر۔
فاروق عبداللہ نے اس موقع پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے مواقع آئے ہیں جب امریکہ نے ہندوستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں امریکہ نے ہندوستان سے کہا تھا کہ اگر اس نے اس کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا تو نیوکلیئر معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت منموہن سنگھ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہندوستان ایک خود مختار ملک ہے اور وہی فیصلہ کرے گا جو اس کے قومی مفاد میں ہوگا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہی طرز عمل آج بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی خود مختاری برقرار رہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے پیش نظر ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کے لیے عارضی رعایت دی ہے تاکہ عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں