سرینگر//15مارچ// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز سری نگر میں ایشیا کے سب سے بڑے ٹیولپ گارڈن کو عوام اور سیاحوں کے لیے کھول دیا، جس کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں بہار کے موسم اور سیاحتی سیزن کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔ جھیل ڈل کے کنارے واقعہ باغ گل لالہ، ہر سال ہزاروں سیاحوں، فطرت کے شائقین اور فوٹوگرافروں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ باغ کے افتتاح کے موقع پر وزراء اور نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے۔یو این ایس کے مطابق اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سیاحت سے وابستہ افراد نے گزشتہ برس ایک مشکل دور دیکھا، تاہم امید ہے کہ حالات میں بہتری آئے گی اور ملک و بیرون ملک سے سیاح جموں و کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے بڑی تعداد میں آئیں گے۔یہ ٹیولپ گارڈن گزشتہ برس پہلگام میں حملے کے بعد سیاحوں کے لیے بند کیے گئے 44 سیاحتی مقامات میں شامل تھا، تاہم سکیورٹی آڈٹ کے بعد اسے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق اس سال باغ میں 70 سے زائد اقسام کے ٹیولپس لگائے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 18 لاکھ ٹیولپ بلبز مختلف رنگوں اور اقسام میں کھلیں گے جو سیاحوں کے لیے ایک دلکش منظر پیش کریں گے۔ ٹیولپس کے علاوہ ہائیسنتھ، ڈیفوڈلز، موسکاری اور ریننکولس جیسے بہاری پھول بھی باغ کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے ہیں۔تقریباً سیڑھی نما ڈھلوانوں پر پھیلا یہ باغ ڈل جھیل کا دلکش نظارہ بھی پیش کرتا ہے اور بہار کے موسم میں کشمیر کے اہم ترین سیاحتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت فلوری کلچر کو ایک تجارتی شعبہ بنانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ یہاں اگائے جانے والے پھول ملک کے دیگر حصوں کو برآمد کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی ترقی میں اس وقت قابل اعتماد کولڈ چین سب سے بڑا مسئلہ ہے، جو ریل یا فضائی ذرائع سے حل ہونے کے بعد اس صنعت کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ٹیولپ بلبز کی مقامی سطح پر پیداوار پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ انہیں نیدرلینڈز سے درآمد کرنے پر ہونے والے اخراجات اور زر مبادلہ کی بچت کی جا سکے۔حکام کے مطابق اس سال باغ کو معمول سے تقریباً دس دن پہلے عوام کے لیے کھولا گیا کیونکہ وادی کشمیر میں غیر معمولی گرم موسم کے باعث پھول وقت سے پہلے کھلنے لگے۔انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں کی متوقع بھیڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ، پارکنگ، سکیورٹی اور دیگر سہولیات کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں جبکہ باغ کی دلکشی بڑھانے کے لیے مختلف ثقافتی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔افتتاح کے پہلے ہی دن بڑی تعداد میں سیاح اور مقامی لوگ باغ کے باہر جمع نظر آئے جو رنگ برنگے ٹیولپس کے دلکش مناظر دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔
0
