سرینگر، 18 مارچ (عقاب نیوز ڈیسک): وادیٔ کشمیر میں بدھ کے روز میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور بالائی علاقوں میں تازہ برفباری نے ایک بار پھر سردی کی شدت بڑھا دی ہے، جس سے معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوئے ہیں۔
چند دنوں کی خشک اور نسبتاً خوشگوار موسم کے بعد سرینگر سمیت کئی علاقوں میں بارش کا سلسلہ شروع ہوا، جبکہ گلمرگ، سونمرگ اور دیگر اونچے علاقوں میں تازہ برفباری ریکارڈ کی گئی، جس سے موسم سرد اور نم ہو گیا۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ تبدیلی ایک فعال مغربی ہواؤں کے سلسلے (ویسٹرن ڈسٹربنس) کے باعث آئی ہے، جس کی وجہ سے بادل چھائے ہوئے ہیں اور مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری ہو رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس موسمی صورتحال کے باعث دن کے درجۂ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے اور موسم نے ایک بار پھر سردیوں کا سا رنگ اختیار کر لیا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے ایک عہدیدار نے بتایا، “آئندہ چند دنوں تک موسم غیر مستحکم رہنے کا امکان ہے، جس دوران میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری، خاص طور پر شام اور رات کے اوقات میں، جاری رہ سکتی ہے۔”
موسم کی اچانک تبدیلی نے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ ایک مقامی شہری نے کہا، “چند دن پہلے تو لگ رہا تھا کہ بہار آ گئی ہے، لیکن اب پھر سے شدید سردی محسوس ہو رہی ہے۔”
ادھر بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہو گئی ہیں، جس سے آمد و رفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
تاہم اس بارش اور برفباری نے کسانوں اور باغبانوں کو کچھ راحت بھی دی ہے، جو طویل خشک موسم کے باعث پریشان تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ نمی آئندہ زرعی سرگرمیوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔
انتظامیہ نے بالائی علاقوں کا رخ کرنے والے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے، کیونکہ برفباری کے باعث سڑکوں پر پھسلن اور عارضی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ 20 مارچ تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے بعد موسم میں بتدریج بہتری آنے کی توقع ہے۔
