0

بارشوں کے باوجودعیدالفطر سے قبل وادی میں بازاروں کا رنگ و رونق عروج پر

رات گئے تک خریداری، ٹریفک دباو ¿ اور قیمتوں میں اضافے پر عوام پریشان
عید سے قبل خواتین کی بھرپور خریداری، گونی کھن اور جامع مسجد بازاروں میں مہندی و کاسمیٹکس کا رش

سرینگر//18 مارچ/ عیدالفطر قریب آتے ہی وادی کشمیر کے بازاروں میں خریداری کا سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں لوگ بڑی تعداد میں عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ سری نگر، اننت ناگ، بارہمولہ اور دیگر اضلاع کے مرکزی بازاروں میں دن بھر اور خاص طور پر شام کے وقت شدید رش دیکھنے کو مل رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق اگر چہ وادی میں گزشتہ ایک ہفتہ سے موسمی صورتحال بہتر نہیں ہے اور وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم اس کے باوجود شہر کے معروف تجارتی مراکز میں عید کی خریداری کے لیے آنے والوں کی بڑی تعداد کے باعث ٹریفک کا دباو ¿ بھی بڑھ گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں۔ ٹریفک حکام نے اہم چوراہوں پر اضافی نفری تعینات کی ہے تاکہ آمد و رفت کو منظم رکھا جا سکے۔ خریداروں کی توجہ خاص طور پر بچوں کے ملبوسات، جوتوں، عید کے تحائف اور گھریلو استعمال کی اشیاء پر مرکوز ہے۔ خواتین کی بڑی تعداد بیوٹی پارلرز اور مہندی لگوانے کے مراکز کا رخ کر رہی ہے، جہاں پیشگی بکنگ کا رجحان بڑھ گیا ہے۔بازاروں میں اس بار روایتی کشمیری اشیاءجیسے کہ کشمیر ی فرین (فرن)، خشک میوہ جات، اور عید کے لیے مخصوص پکوانوں کی تیاری کے سامان کی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قصاب خانوں اور پولٹری دکانوں پر بھی گاہکوں کی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔تاہم عوام کی ایک بڑی تعداد نے قیمتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ خریداروں کا کہنا ہے کہ کپڑوں، جوتوں، گوشت اور روزمرہ اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے عید کی خریداری مشکل ہو گئی ہے۔دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت، ٹرانسپورٹ اخراجات اور ہول سیل قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عید کا سیزن سال بھر کے کاروبار کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے، جس میں وہ اپنے نقصانات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انتظامیہ نے بازاروں میں صفائی، سیکورٹی اور ٹریفک نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے حساس مقامات پر تعینات ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ماہرین کے مطابق عید کے موقع پر وادی کی مقامی معیشت کو خاصی تقویت ملتی ہے اور مختلف شعبہ جات میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔واضح رہے کہ عیدالفطر کا تہوار رمضان المبارک کے اختتام پر منایا جاتا ہے اور اس کی حتمی تاریخ چاند نظر آنے پر منحصر ہوتی ہے۔یو این ایس کے مطابق عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر خواتین خریداروں کی سرگرمیاں بھی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں، جہاں سری نگر کے سول لائنز علاقے میں واقع گونی کھن مارکیٹ اور ڈاو ¿ن ٹاو ¿ن کے تاریخی و تجارتی مرکز جامع مسجد کے اطراف بازاروں میں خواتین کا غیر معمولی ہجوم دیکھا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں مہندی فروشوں، کاسمیٹکس، جیولری اور خواتین کے ملبوسات کی دکانوں پر خریداروں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں، جبکہ عید کے لیے خصوصی ڈیزائنز والی مہندی لگوانے کا رجحان خاصا بڑھ گیا ہے۔ شام کے اوقات میں یہ بازار رنگا رنگ مناظر پیش کرتے ہیں جہاں نوجوان لڑکیاں اور خواتین گروپس کی شکل میں خریداری کرتی نظر آتی ہیں۔ مختلف مہندی آرٹسٹس نے عارضی اسٹالز قائم کر رکھے ہیں جہاں رات گئے تک خواتین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اسی طرح بیوٹی پارلرز میں بھی رش بڑھ گیا ہے اور کئی مقامات پر پیشگی بکنگ کے بغیر خدمات حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔یہ رجحان صرف سری نگر تک محدود نہیں بلکہ اننت ناگ، بارہمولہ، کپواڑہ، پلوامہ اور دیگر اضلاع کے ہیڈکوارٹرز میں بھی واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں خواتین عید کی تیاریوں کے سلسلے میں مہندی، بناو ¿ سنگھار اور دیگر ضروری اشیاءکی خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کر رہی ہیں۔ چھوٹے قصبوں میں بھی عارضی مہندی اسٹالز اور خواتین کے خصوصی بازار سج گئے ہیں، جو عید کی روایتی رونق کو مزید بڑھا رہے ہیں۔خواتین کا کہنا ہے کہ مہندی اور عید کی تیاری ان کے لیے تہوار کا اہم حصہ ہے، جس کے بغیر عید کی خوشیاں ادھوری محسوس ہوتی ہیں۔ تاہم بعض خریداروں نے مہندی اور کاسمیٹکس کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار بھی کیا، جبکہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مانگ میں اضافے کے باعث قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں