سرینگر//18 مارچ/ سری نگر میں اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت متعارف کرائی گئی الیکٹرک بس سروس، جو ابتدا میں جدید، سستی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے طور پر سراہا گیا تھا، اب مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف اس سروس پر مالی خسارے کا بوجھ بڑھ گیا ہے بلکہ مسافروں اور عملے کی جانب سے بھیڑ بھاڑ، بدانتظامی اور روزمرہ سفر میں پیش آنے والی مشکلات پر بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام کے مطابق اس سروس کو روزانہ تقریباً 9.74 لاکھ روپے کا خسارہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں بجلی کے اخراجات، مرمت، عملے کی تنخواہیں اور بنیادی ڈھانچے پر اٹھنے والے اخراجات شامل ہیں۔ اسی دوران خواتین کے لیے مفت سفر کی سہولت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ایک طرف اسے خواتین کی نقل و حرکت میں بہتری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس کے اثرات دیگر مسافروں پر بھی زیر بحث ہیں۔مسافروں، خاص طور پر مرد حضرات، کا کہنا ہے کہ بسوں میں حد سے زیادہ بھیڑ کے باعث سفر نہ صرف مشکل بلکہ ذہنی دباو ¿ کا باعث بن گیا ہے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ رش کے دوران معمولی جسمانی ٹکراو ¿ بھی غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے، جس سے جھگڑے اور تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ مسافروں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایسے حالات میں انہیں بلاوجہ الزامات یا ویڈیو بنانے کے خدشات کا سامنا رہتا ہے۔دوسری جانب بس ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ مفت سفر کی سہولت کے بعد مسافروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے نظام پر دباو ¿ بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق معمولی فاصلے کے لیے بھی لوگ بسوں کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے بھیڑ اور بدنظمی میں اضافہ ہوا ہے۔حکام کا موقف ہے کہ اس سروس کا مقصد خواتین کی سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں شرکت کو فروغ دینا ہے اور انفرادی رویوں کو پورے نظام پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جلد ہی مزید بسیں شامل کی جائیں گی تاکہ بھیڑ کے مسئلے کو کم کیا جا سکے، تاہم ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کے لیے مالی استحکام، بہتر انتظام اور مسافروں کے رویوں میں بہتری ناگزیر ہے۔
0
