0

این سی رکن کا جموں کشمیر اسمبلی میں لینڈ گرانٹس بل پیش کرنے کا منصوبہ

سرینگر: جموں و کشمیر کی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے ایک رکن اسمبلی آنے والے اسمبلی اجلاس کے دوسرے مرحلے میں ایک بل پیش کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد یونین ٹیریٹری کے غریب لوگوں کے زمین سے متعلق حقوق کو بحال کرنا ہے۔

اسمبلی کا بجٹ اجلاس 27 مارچ کو دوبارہ شروع ہوگا، یہ اجلاس فروری میں شروع ہوا تھا اور رمضان المبارک کی وجہ سے ایک ماہ کا وقفہ دیا گیا تھا۔

نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور سرینگر کے زڈی بل اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی تنوییر صادق نے کہا کہ وہ لینڈ گرانٹ بل 2025 پیش کریں گے، جس کا مقصد “غریب طبقے کو زمین پر حقوق کو واپس دلانا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ 2022 میں زمین سے متعلق قوانین میں جو ترمیم کی گئی تھی، وہ ناکافی تھی اور اس سے غریبوں کے حقوق متاثر ہوئے۔ صادق نے کہا کہ ان کا بل 2022 کی ترمیم میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس لینے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا: “یہ ایک نہایت اہم بل ہے کیونکہ اس سے غریبوں کے وہ حقوق واپس ملیں گے جو 2022 کی ترمیم میں ختم کر دیے گئے تھے۔ ہمیں زمین اور حقوق دونوں واپس دینے ہوں گے۔”

دوسری جانب، پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے اس مجوزہ بل پر ردِعمل دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ان کا اپنا بل اسمبلی میں مسترد کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے اگست 2025 کے اجلاس میں پرہ کے بل کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ اس سے امیر طبقے اور زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔

پرہ نے کہا: “جو بل سرکاری زمین پر رہنے والوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لیے تھا، اسے نیشنل کانفرنس نے اسمبلی میں مسترد کیا تھا۔ اب وہ خود بل لانے کی بات کر رہے ہیں، ہم دیکھیں گے۔ ان شاء اللہ اگر یہ واقعی عوام کے حق میں ہوگا تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔
“انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو سرکاری، کاہچرائی، نزول یا جنگلاتی اراضی پر برسوں سے رہ رہے ہیں اور آج بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حتیٰ کہ ان کے گھر مسمار بھی کیے جا رہے ہیں۔

پرہ نے کہا: “یہ کہنا غلط ہے کہ اس طرح کے بل زمین پر قبضہ کرنے والوں کو فائدہ دیتے ہیں۔ جموں میں جب گھروں کو گرایا گیا تو یہی لوگ ہمدردی دکھانے گئے، مگر آج تک ان گھروں کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی۔”

انہوں نے بتایا کہ اسمبلی میں پی ڈی پی کے ایم ایل اے میر فیاض نے انہدامی کارروائیوں پر سوال اٹھایا تھا، جس کے مطابق صرف اس سال تقریباً 1500 گھر مسمار کیے گئے، لیکن حکومت نے عام لوگوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ پرہ نے زور دیا کہ اسمبلی میں اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ جو لوگ جموں، کشمیر، چناب یا پیر پنجال میں سرکاری یا دیگر زمینوں پر برسوں سے رہ رہے ہیں، ان کے ساتھ انصاف کیا جائے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہوں۔

انہوں نے کہا: “جو لوگ 15، 20 یا 25 سال سے ایسی زمین پر رہ رہے ہیں اور جن کے پاس اپنی زمین نہیں تھی، انہوں نے چھوٹے چھوٹے گھر بنائے ہیں، ان گھروں کو قانونی بنایا جانا چاہیے اور انہیں مالکانہ حقوق ملنے چاہئیں۔”

آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کے آشیانے گرانے کا سلسلہ جاری رہا تو پھر اس سب کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟ انہدامی کارروائیاں اور زبردستی بے دخلی فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں