0

کشمیر میں طویل خشک سالی کے بعد رحمت باراں، کسانوں کے چہرے کھل اٹھے

سرینگر 20 مارچ : وادی کشمیر میں طویل خشک سالی کے بعد گزشتہ چند دنوں سے مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، وہیں بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین اس رحمت باراں کو زراعت خاص کر باغبانی کے لیے نہایت خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ “بارش نے نہ صرف موسم میں خوشگوار تبدیلی پیدا کی ہے بلکہ زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔”

طویل خشک سالی کے بعد رحمت باراں، کسانوں کے چہرے کھل اٹھے (ای ٹی وی بھارت)
ماہرین کے مطابق “طویل خشک سالی کے باعث زمین میں نمی کی شدید کمی واقع ہو گئی تھی، جس سے فصلوں اور باغات کی نشوونما متاثر ہو رہی تھی۔ تاہم حالیہ بارشوں نے زمین میں کھوئی ہوئی نمی کو دوبارہ بحال کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مٹی کی ساخت بہتر ہو رہی ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔

بارش کا یہ سلسلہ زیر زمین پانی کی سطح کو بھی بلند کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں آبپاشی کے مسائل میں بھی کمی آنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ یہ بارشیں باغبانی کے شعبے، خاص طور پر سیب، اخروٹ اور دیگر پھلدار درختوں کے لیے انتہائی فائدہ مند سمجھی جا رہی ہیں، کیونکہ یہ ان کی نشوونما اور پھل کی کوالٹی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

ضلع پلوامہ کے چیف ہارٹیکلچر آفیسر ریاض احمد شاہ نے حالیہ موسمی تبدیلیوں کو باغبانی کے شعبے کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ “طویل خشک سالی کے بعد پچھلے کئی روز سے مسلسل بارشیں ہو رہی یں، جو فصلوں کے لیے خاص کر ہارٹیکلچر شعبے کے لئے نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔”

ای ٹی وی بھارت
طویل خشک سالی کے بعد رحمت باراں، کسانوں کے چہرے کھل اٹھے (ای ٹی وی بھارت)
انہوں نے بتایا کہ خشک سالی کے باعث زمین میں نمی کی شدید کمی واقع ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں مٹی کی زرخیزی اور قدرتی طاقت متاثر ہوئی تھی۔ تاہم حالیہ بارشوں نے زمین کی کھوئی ہوئی نمی کو بحال کر دیا ہے، جس سے مٹی کی صحت میں بہتری آئی ہے اور درختوں کی نشوونما کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر اس سال پھلوں کی پیداوار بہتر اور معیاری ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ چیف ہارٹیکلچر آفیسر نے باغبانی سے وابستہ کسانوں اور باغ مالکان کو مشورہ دیا کہ وہ محکمہ ہارٹیکلچر کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ باغات میں بروقت سپرے اور تجویز کردہ ادویات کا استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ بیماریوں اور کیڑوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے اور بہترین پیداوار حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید زرعی طریقوں کو اپنانا اور ماہرین کی ہدایات پر عمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ بہتری آ سکتی ہے۔
(ای ٹی وی بھارت)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں