0

ہندوستان کی سرحدوں پر کرائے کے جنگجوؤں اور ڈرون جنگ کا بڑھتا عالمی جال

خصوصی مضمون : جینت رائے چودھری
نئی دہلی، 25 مارچ (یو این آئی) ہندوستان کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں میں، جہاں ملک کی سرحد غیر مستحکم میانمار سے ملتی ہے، طویل عرصے سے چھوٹے پیمانے کی بغاوتیں، کھلی سرحدیں اور غیر یقینی جنگ بندی کی صورتحال برقرار ہے۔
حال ہی میں غیر ملکی شہریوں کے ایک چھوٹے گروہ سے جڑے معاملے نے ایک انتہائی پیچیدہ اور ممکنہ طور پر سنگین تصویر بے نقاب کی ہے جس میں کرائے کے جنگجو، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جغرافیائی سیاسی رقابتوں کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہے۔
مارچ کے وسط میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے ملک کے کئی شہروں میں کی گئی گرفتاریاں ابتدا میں معمولی نوعیت کی لگیں۔ الزام تھا کہ غیر ملکی شہریوں نے حساس سرحدی علاقوں میں سفر سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے، لیکن جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھی، الزامات کہیں زیادہ سنگین ہوتے گئے۔ اب حکام کو شبہ ہے کہ اس گروہ، جس میں چھ یوکرینی اور ایک امریکی شہری شامل ہیں، نے میانمار میں داخل ہو کر ہندوستانی سرحد سے متصل مسلح نیٹ ورکس سے رابطہ قائم کیا۔
اس معاملے کے مرکز میں ایک اہم سوال ہے کہ کیا ہندوستان کا شمال مشرقی علاقہ عالمی سطح پر پھیلتے ہوئے تنازع کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے؟
سابق آئی پی ایس افسر اور ماریشس کے سابق قومی سلامتی مشیر شانتنو مکھرجی نے کہا کہ غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری، جن پر سرحدی علاقوں سے میانمار میں شدت پسندوں کو تربیت دینے کا شبہ ہے، انتہائی اہم ہے۔ ان کے نیٹ ورک، روابط اور خاص طور پر ان کے پسِ پردہ عناصر کا پتہ لگانا ضروری ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ گروہ میزورم میں بغیر اجازت داخل ہوا تھا، جو میانمار کی چن ریاست کے ساتھ ایک دشوار گزار اور غیر واضح سرحد کا اشتراک کرتا ہے۔ میانمار میں 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد چن ریاست جنگ کا میدان بن چکی ہے، جہاں مزاحمتی گروہ اور فوجی حکمرانی کے سپاہی آمنے سامنے ہیں۔
اس کے برعکس، میزورم نسبتاً پرامن رہا ہے۔ یہاں شرح خواندگی 91 فیصد سے زیادہ ہے اور فی کس آمدنی تقریباً 3000 امریکی ڈالر کے قریب ہے، جو خطے میں استحکام اور تنازع کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ دہائیوں تک شمال مشرقی ہندوستان کے انتہا پسند گروہ شمالی میانمار میں پناہ لے کر اپنی تنظیم نو اور تربیت حاصل کرتے رہے۔ تاہم، 1980 کی دہائی کے بعد میزورم اور ناگالینڈ جیسی ریاستوں میں امن معاہدوں نے کئی سابق انتہا پسندوں کو سیاسی اور انتظامی کرداروں میں شامل کر دیا ہے۔ میانمار میں جاری عدم استحکام نے اس توازن کو بدل دیا ہے۔
مسٹر مکھرجی کے مطابق، “غیر ملکی عناصر کی آمد، چاہے وہ نظریاتی، مالی فائدے یا کسی اور وجہ سے ہو، اس بات کا اشارہ ہے کہ جو تنازعات پہلے مقامی سمجھے جاتے تھے، وہ اب عالمی دائرے میں شامل ہو رہے ہیں۔”
ہندوستانی تحقیقاتی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ گرفتار افراد میانمار میں مسلح گروہوں کو حملہ آور ڈرونز کے استعمال، جیسے ان کی تیاری، آپریشن اور ان سے بچاؤ کی تربیت دے سکتے تھے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں میانمار کی خانہ جنگی ڈرون جنگ کی ترقی کے لئے ایک غیر متوقع تجربہ گاہ بن گئی ہے۔ فوج اور باغی دونوں ہی نگرانی اور حملوں کے لئے ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ عام تجارتی آلات سے بنے ڈرون بھی حملوں کے لئے استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ جدید نظام توپ خانے اور فضائی کارروائیوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اب صرف آلات ہی نہیں بلکہ انہیں بنانے، چلانے اور ان سے بچاؤ کا علم بھی اتنا ہی اہم ہو گیا ہے، اور یہی علم سرحدوں کے پار پھیلنے کا خدشہ ہے۔
ہندوستان کے لئے اس کے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ ٹیکنالوجی ملک کے اندر سرگرم شدت پسند گروہوں تک پہنچتی ہے تو شمال مشرق کی سکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے اور روایتی شورش ایک زیادہ پیچیدہ تکنیکی خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ گرفتار امریکی شہری کا پروفائل جسے کئی جنگی علاقوں کا تجربہ رکھنے والا اور ایک نجی تنظیم کا بانی بتایا گیا ہے، ایک اور ابھرتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں کرائے کے جنگجو، انہیں بھرتی کرنے والے گروہ اور نظریاتی جنگجوؤں کے درمیان حدیں دھندلی ہوتی جا رہی ہیں۔
روس-یوکرین جنگ نے اس رجحان کو مزید تیز کیا ہے، جس میں ہزاروں غیر ملکی جنگجو شامل ہوئے اور بین الاقوامی سطح پر جنگ میں شرکت عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ جنگجو اپنے ساتھ نہ صرف تجربہ بلکہ ایسے نیٹ ورکس بھی لاتے ہیں جن کے ذریعے مہارت، وسائل اور روابط کا تبادلہ ہوتا ہے۔ اب ہندوستانی ایجنسیاں اس امکان کا سامنا کر رہی ہیں کہ ملک کے سرحدی علاقے اب دور دراز جنگوں سے الگ تھلگ نہیں رہے بلکہ ان سے جڑتے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا، یوکرین نے اپنے شہریوں کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور زیر حراست افراد سے سفارتی رابطے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستان میں یوکرین کے سفیر اولیکساندر پولشچک نے ان گرفتاریوں پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ ایک سادہ انسداد دہشت گردی تحقیقات سے آگے بڑھ کر سفارتی پیچیدگی بھی پیدا کر چکا ہے۔ ہندوستانی حکام کے مطابق یہ گروہ کچھ عرصے سے نگرانی میں تھا اور اس کے بارے میں معلومات روسی خفیہ ایجنسیوں سے حاصل ہوئی تھیں، جو ماسکو کے ساتھ ہندوستان کے پرانے تعلقات کو ظاہر کرتی ہیں۔
اس معاملے کی اہمیت صرف الزامات تک محدود نہیں بلکہ اس وسیع اشارے میں ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید تنازعات کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ جنگ اور امن، داخلی اور بین الاقوامی، اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر کے درمیان سرحدیں مسلسل دھندلی ہوتی جا رہی ہیں۔
ہندوستان کا شمال مشرقی خطہ، جسے طویل عرصے تک محض ایک سرحدی حفاظتی مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب تشدد کے عالمی رجحانات، جدید فوجی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور غیر رسمی بین الاقوامی نیٹ ورکس کے ابھار سے براہِ راست جڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں