مقامی سطح تک بھرتیوں کی تجویز سے انتظامی مسائل پیدا ہوں گے، حکومت کا مو ¿قف
سرینگر//30مارچ/ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز اسمبلی میں کہا کہ حکومت کسی بھی پرائیویٹ ممبرز بل کی اندھا دھند مخالفت نہیں کرتی بلکہ ہر تجویز کو اس کی میرٹ پر جانچا جاتا ہے اور مکمل غور و خوض کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جاتا ہے۔اسمبلی میں کانگریس کے رکن نظام الدین بٹ کی جانب سے پیش کردہ اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے، جس میں سول سروسز میں روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بحث کے دوران دیے گئے بعض بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت بلز کو پڑھے بغیر ہی مسترد کر دیتی ہے، جو کہ ”کسی حد تک ناانصافی“ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا،”ایسا لگ سکتا ہے جیسے ہم ایک پرچی اٹھاتے ہیں جس پر ’مخالفت‘لکھا ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر بل کو رد کر دیتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔“ن کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی تجویز حکومت تک پہنچتی ہے، چاہے وہ اسمبلی کے ذریعے ہو یا کسی اور ذریعہ سے، اس کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ حکومت ہر بل کی عملیت، اس کے فوائد اور نقصانات کا باریک بینی سے تجزیہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا”اگر کسی تجویز کے فوائد اس کے نقصانات پر حاوی ہوں تو ہم اس کی مخالفت نہیں کرتے۔“اسمبلی میں پیش کیے گئے 33 پرائیویٹ ممبرز بلز میں سے تقریباً ایک درجن متعارف کرائے گئے، جن میں سے بیشتر بعد میں پیش کرنے والوں نے واپس لے لیے، جبکہ کچھ کو حکومت کے جواب کے بعد ووائس ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے متعلقہ بل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق اس میں فوائد کے مقابلے میں مسائل اور پیچیدگیاں زیادہ ہیں۔ تاہم انہوں نے رکن اسمبلی کے خدشات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر توجہ دینا ضروری ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بھرتیوں یا تعیناتیوں کو مکمل طور پر مقامی سطح تک محدود کرنے سے انتظامی مسائل پیدا ہوں گے، جیسے اضافی کیڈر کی ضرورت، بلاک سطح پر موزوں امیدواروں کی کمی اور نرمی کی ضرورت، جو امتیازی سلوک کا باعث بن سکتی ہے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پالیسی سے ریزرویشن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا اور چھوٹے بلاکس میں ترقی کے مواقع بھی محدود ہو جائیں گے، جس سے ایک ہی وقت میں بھرتی ہونے والے ملازمین کے درمیان عدم مساوات پیدا ہو سکتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ رکن اسمبلی کی جانب سے اٹھایا گیا مسئلہ اہم ہے، لیکن پیش کردہ بل اس کا مناسب حل نہیں ہے۔ انہوں نے بل واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے متبادل اقدامات پر غور کرے گی۔
