0

آج ہونے والے ‘بلڈ مون’ اور ایران اسرائیل جنگ میں تعلق

دبئی، 3 مارچ (یو این آئی) آج ہونے والے ‘بلڈ مون’ اور ایران اسرائیل جنگ میں تعلق کے سنسی خیز دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جہاں سیکیورٹی کی صورتحال کشیدہ ہے، وہیں سوشل میڈیا پر مختلف ‘سازشی نظریات’ اور مذہبی پیشگوئیوں نے ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
بہت سے صارفین اور مخصوص مذہبی گروہ ‘بلڈ مون’ (سرخ چاند گرہن) جیسے قدرتی فلکیاتی واقعے کو جنگی حالات سے جوڑ کر اسے ‘دنیا کے خاتمے’ کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
‘بلڈ مون’ (Blood Moon) اور جنگ: حقیقت یا اتفاق؟
انٹرنیٹ پر یہ نظریہ گردش کر رہا ہے کہ 2026 کا پہلا چاند گرہن یہودی تہواروں ‘پوریم’ اور ‘روش ہاشانہ’ کے قریبی ایام میں ہو رہا ہے، جو ان کے بقول قدیم پیشگوئیوں کے مطابق کسی بڑے عالمی تصادم کا پیش خیمہ ہے۔
سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘بلڈ مون’ محض ایک مکمل چاند گرہن ہے جس کا زمینی جنگوں یا جغرافیائی حالات سے کوئی سائنسی تعلق نہیں ہے، یہ ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے جسے سازشی نظریات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سازشی نظریات میں ایک اور پہلو ‘سرخ گائے’ کا بھی آرہا ہے، آن لائن حلقوں میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ مخصوص مذہبی مقاصد کے لیے ایک ‘بے عیب سرخ گائے’ کی تلاش جاری ہے، جس کا تعلق یروشلم میں مخصوص مذہبی اقدامات سے جوڑا جاتا ہے، تاہم ان دعوؤں کا کسی بھی مستند رپورٹ یا حقیقت سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔
ماہرین اور فیکٹ چیکرز نے ان افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
فیکٹ چیکرز نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ سائنس اور قیاس آرائیوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ ایسی پوسٹس شیئر کرنے سے گریز کریں جو صرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔
صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف تصدیق شدہ خبروں پر یقین کریں اور ایسی کسی بھی معلومات کو آگے نہ بڑھائیں جس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اپنی جگہ ایک سنگین حقیقت ہے، لیکن اسے فلکیاتی واقعات یا غیر مستند مذہبی تعبیرات سے جوڑنا محض ایک پراپیگنڈا اور قیاس آرائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں