نئی دہلی، 13 جنوری (یو این آئی) آپریشن سندور کے دوران ثالثی اور فوجی کارروائی روکنے سے متعلق لگائی جانے والی تمام قیاس آرائیوں اور دعوؤں کے درمیان آرمی چیف جنرل اُپیندر دویدی نے کہا ہے کہ اس مہم کے دوران 10 مئی کی صبح تینوں افواج کو اعلیٰ سطح پر دیے گئے چند احکامات کے بعد پاکستان کو یہ سمجھ آگیا کہ اب جنگ روکنے کا وقت آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فوج مکمل زمینی آپریشن کے لیے بھی تیار تھی اور پاکستان کو اس کی خبر بھی ہو گئی تھی۔ آرمی چیف نے منگل کے روز 78ویں یومِ فوج سے قبل یہاں سالانہ پریس کانفرنس میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں دو فیصلہ کن موڑ تھے۔ پہلا فیصلہ کن موڑ 7 مئی کی رات کا 22 منٹ کا حملہ تھا، جو فوج نے دہشت گرد ٹھکانوں پر کیا۔
اس حملے سے پاکستان کا فیصلہ سازی کا نظام متزلزل ہو گیا اور افراتفری پھیلنے کے باعث انہیں یہ سمجھنے میں وقت لگا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا فیصلہ کن موڑ 10 مئی کی صبح آیا، جب اعلیٰ سطح پر تینوں افواج کو کچھ ہدایات دی گئی تھیں کہ اگر یہ جنگ مزید بڑھتی ہے تو کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں (پاکستان کو) یہ بات سمجھنی تھی، انہوں نے اسے سمجھ لیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ وہ (پاکستان) سیٹلائٹ کے ذریعے مکمل معلومات حاصل کر رہے ہیں کہ کون سا جنگی جہاز، کون سا حملہ یا اسٹریٹجک موڑ، کون سا مین یونٹ یا کون سا طیارہ کب اور کہاں جا رہا ہے۔ جب انہوں نے ان تمام نکات اور باتوں کو آپس میں جوڑا تو انہیں سمجھ آ گیا کہ اب اس جنگ کو روکنے کا وقت آچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران فوج نے روایتی ہتھیاروں سے بھی پاکستان کو سخت جواب دیا اور ہندوستان کے شہری علاقوں میں فائرنگ کے بعد ہندوستانی فوج کی جو کارروائی ہوئی اس میں پاکستان کے قریب 100 فوجی مارے گئے۔ یہ تمام ہلاکتیں لائن آف کنٹرول پر ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے، کیونکہ ہم نے روایتی جنگ کو وسعت دے کر ان کے خلاف سخت کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران فوج کی تعیناتی اور تیاری اس طرح کی گئی تھی کہ روایتی جنگی صورتحال کو مزید پھیلایا جا سکے اور اگر پاکستان کوئی بھی غلطی کرتا تو ہم زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھے۔
پاکستان کی جانب سے ایٹمی حملے کی رٹ لگانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی بات چیت میں اس موضوع پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں جو بھی بیانات آئے وہ یا تو پاکستان کے رہنماؤں کے تھے یا وہاں کے عوام کے۔ ان کے خیال میں پاکستانی فوج کی جانب سے اس بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کہی گئی۔
0
