0

اے سی بی نے سیکاپ کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر، موجودہ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

جموں،29جنوری(یو این آئی) اینٹی کرپشن بیورو جموں نے سیکاپ میں مبینہ غیر قانونی تقرری، ریگولرائزیشن اور ترقی سے متعلق سنگین الزامات کی بنیاد پر سابق اور موجودہ اعلیٰ افسران کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، مقدمہ ان الزامات پر مبنی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سیکاپ کے اُس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر آر کے رزدان جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ ملی بھگت میں کنال چودھری کو غیر قانونی طور پر تقرر اور ترقی دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کنال چودھری اس وقت سیکاپ جموں میں ڈپٹی جنرل منیجر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
اے سی بی کی ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ آر کے رزدان نے بغیر کسی اشتہار، بغیر درخواستیں طلب کیے اور بغیر کسی قانونی تقاضے کے، محض اپنی صوابدید پر کنال چودھری کو 6 ماہ کے لیے ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے طور پر عارضی بنیادوں پر تعینات کیا۔ یہ تقرری نہ صرف قوانین کے خلاف تھی بلکہ ’پک اینڈ چوز‘ پالیسی کی بدترین مثال بھی قرار دی گئی ہے۔
تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ صرف چھ ماہ کی عارضی ملازمت کے بعد ہی کنال چودھری کو بغیر کسی پالیسی، منظوری یا اہلیت کی جانچ کے ریگولرائز کردیا گیا، جو کہ سرکاری قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد انہیں بغیر اشتہار دیے اور دیگر اہل امیدواروں کی سینیارٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے منیجر کے عہدے پر بھی ترقی دے دی گئی۔
اینٹی کرپشن بیورو کے مطابق، اس پورے عمل میں اس وقت کے ایم ڈی آر کے رزدان اور دیگر ملوث افراد نے اختیارات کا بےجا استعمال کیا، قواعد و ضوابط کو پامال کیا اور ایک مخصوص شخص کو غیر قانونی طریقے سے فائدہ پہنچایا، جس کے نتیجے میں کنال چودھری کو تنخواہ، الاؤنسز اورسینیارٹی کی صورت میں بھاری مالی فائدہ حاصل ہوا۔
اے سی بی نے بتایا کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید گرفتاریاں یا قانونی کارروائیاں بھی متوقع ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں