نئی دہلی، 26 مارچ (عقاب نیوز ڈیسک): وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے ملک میں توانائی کے کسی بھی بحران کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی سپلائی مکمل طور پر محفوظ اور قابو میں ہے، اور ملک کے کسی بھی حصے میں کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کے ایک لاکھ سے زائد پٹرول پمپ معمول کے مطابق کھلے ہیں اور بلا رکاوٹ ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ کسی بھی پمپ کو سپلائی محدود کرنے یا راشن بندی کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔
وزارت نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی خبروں کو “منصوبہ بند اور گمراہ کن مہم” قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں۔ بیان میں کہا گیا کہ چند مقامات پر جو وقتی بھیڑ یا خریداری میں اضافہ دیکھنے کو ملا، وہ محض غلط معلومات کے باعث پیدا ہوا، تاہم تیل کمپنیوں نے فوری طور پر سپلائی بڑھا کر صورتحال کو معمول پر رکھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ریفائنر اور پانچواں بڑا برآمد کنندہ ہے، جو 150 سے زائد ممالک کو پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرتا ہے، اس لیے ملک میں ایندھن کی دستیابی بنیادی طور پر مستحکم ہے۔
خام تیل کی فراہمی کے حوالے سے وزارت نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باوجود بھارت کو دنیا کے 41 سے زائد سپلائرز سے مسلسل تیل موصول ہو رہا ہے اور آئندہ 60 دنوں کی سپلائی پہلے ہی یقینی بنائی جا چکی ہے۔ ملک کی تمام ریفائنریز 100 فیصد سے زائد صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔
ذخائر کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے وزارت نے کہا کہ بھارت کے پاس مجموعی طور پر 74 دن کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے جبکہ اس وقت تقریباً 60 دن کا اسٹاک موجود ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔
ایل پی جی کے حوالے سے بھی وزارت نے واضح کیا کہ کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔ ملکی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور یومیہ پیداوار اب 50 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ، روس اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک سے ایل پی جی کی کھیپیں بھی مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔
وزارت نے یہ بھی کہا کہ پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کو فروغ دینا کسی بحران کا ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ یہ سستا، محفوظ اور ماحول دوست ایندھن ہے۔
آخر میں وزارت نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلانا قانوناً جرم ہے، اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں اور افواہوں سے گریز کریں۔
