جموں،12 جنوری (یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پیر کے روز سخت مؤقف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے اور اس وحدت کو توڑنے کی کوئی بھی تجویز ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی کے ایک رکنِ اسمبلی نے حال ہی میں جموں کو الگ ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
فاروق عبداللہ نے جموں کے ناروال فروٹ منڈی کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’نہ جموں، کشمیر سے الگ ہوسکتا ہے اور نہ کشمیر، جموں سے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سر کو دھڑ سے الگ کر دیا جائے — جموں سر ہے اور کشمیر دھڑ۔‘
انہوں نے اس موقع پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ لداخ کے لوگ بھی دوبارہ جموں و کشمیر کے ساتھ جڑنے کے خواہاں ہیں۔
واضح رہے کہ بی جے پی کے ایم ایل اے شام لال شرما نے گزشتہ دنوں جموں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر شدید سیاسی بحث چھڑ گئی۔ تاہم بی جے پی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر ست شرما نے اس بیان سے خود کو دور کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی کا مؤقف نہیں ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ اپنے دورے کے دوران جماعت کے سینئر رہنماؤں، صوبائی صدر رتن لعل گپتا اور ایس سی سیل کے چیئرمین وجے لوچن کے ہمراہ ناروال فروٹ منڈی کے تاجروں سے بھی ملے، ان کے مسائل سنے اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے تمام جائز مطالبات حکومت تک پہنچائے جائیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت میں قائم حکومت نے گزشتہ ایک برس کے دوران عوامی فلاح و بہبود کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
فاروق عبداللہ نے تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،’فکر کی کوئی بات نہیں… عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔‘
0
