سرحدی دراندازی روکنے کیلئے بی ایس ایف کی مزید 7 بٹالین تعینات
پہاڑی علاقوں میں آپریشنز اور جدید جنگی حکمت عملیوں کی تربیت فراہم ،مزید اہلکاروں کی ٹریننگ جاری
سرینگر//23مارچ/ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط بناتے ہوئے تقریباً 350 اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) اہلکاروں کو برف پوش پہاڑی علاقوں، دشوار گزار خطوں اور گھنے جنگلات میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے معاون نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انہیں ختم کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق ان اہلکاروں کو آندھرا پردیش میں ایلیٹ فوجی یونٹس کے ساتھ خصوصی تربیت دی گئی ہے، جہاں انہیں جنگلاتی جنگ، سخت موسمی حالات میں بقا، پہاڑی علاقوں میں آپریشنز اور جدید جنگی حکمت عملیوں کی تربیت فراہم کی گئی۔حکام نے بتایا کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی سرحد پار سے دراندازی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اطلاعات ہیں کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو جموں خطے میں داخل کرنے کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق اسی تناظر میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی مزید سات بٹالینوں کو بین الاقوامی سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ دراندازی کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق کچھ بٹالینز پہلے ہی تعینات ہو چکی ہیں جبکہ دیگر جلد پہنچ جائیں گی۔حکام نے کہا کہ ایس او جی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل مسلسل جاری ہے اور مزید اہلکاروں کو تربیت دے کر حساس علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ آندھرا پردیش میں خصوصی تربیت حاصل کرنے والے جموں و کشمیر پولیس کے اہلکاروں کو براہ راست پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔یہ تربیتی عمل گزشتہ سال 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا، جس میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اب اس تربیت کو مستقل عمل بنا دیا گیا ہے تاکہ مزید اہلکار تیار کیے جا سکیں۔ذرائع کے مطابق ایس او جی کے اندر ایک نئی حکمت عملی کے تحت دو خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک برف پوش اور بلند پہاڑی علاقوں میں آپریشنز کے لیے جبکہ دوسرا گھنے جنگلات اور دشوار گزار علاقوں میں کارروائیوں کے لیے مختص ہے۔ادھر فوج، نیم فوجی دستے اور جموں و کشمیر پولیس بھی مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف سرگرم ہیں۔ گزشتہ ماہ ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں جیش محمد کے کمانڈر سیف اللہ سمیت چار خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ جموں خطے کے اضلاع ڈوڈہ، کشتواڑ، ادھم پور، کٹھوعہ، راجوری اور پونچھ کے بالائی علاقوں میں کچھ غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، جو زیادہ تر پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور جدید جنگی تربیت یافتہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران جموں، سانبہ اور کٹھوعہ سیکٹر میں کوئی بڑی دراندازی سامنے نہیں آئی، تاہم ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بی ایس ایف کی مزید بٹالینز کی تعیناتی سے بارڈر پولیس اور ولیج ڈیفنس گارڈز کو بھی تقویت ملے گی اور ایک مضبوط سیکورٹی نظام قائم ہوگا تاکہ کسی بھی قیمت پر دراندازی کو روکا جا سکے۔واضح رہے کہ امیت شاہ کے 5 سے 7 فروری کے دورہ جموں کے دوران سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا اور اسی اجلاس میں سرحدی علاقوں کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس پر اب عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
