سرینگر:۷۱،جنوری : جموں و کشمیر حکومت نے زیر زمین پانی کی تلاش اور اس کی کھدائی کے عمل کو ریگولیٹ کرکے باقاعدہ اور ضابطوں کے تحت لایا ہے۔ بور ویل وغیرہ کےلئے اب پیشگی فزیبلٹی یعنی موزونیت اور تکنیکی جانچ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی بھی تنبیہ کی گئی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر میں جل شکتی محکمہ کی ’گراونڈ واٹر ڈویڑن‘کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکمنامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ”بورویل نصب کرنے سے قبل ہائیڈرو جیولوجیکل مطالعہ، جیو فزیکل جانچ اور بور لاگز کے جائزے سمیت سبھی پیشگی جائزے لازمی ہیں“۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ”دیگر محکموں کی جانب سے ان ضروری مراحل کے بغیر کیے گئے کاموں سے پانی کے نظام کی سالمیت متاثر ہو رہی ہے اور زیر زمین پانی کا غیر پائیدار استعمال عام ہو رہا ہے۔ اسی لئے جل شکتی محکمہ کی گراونڈ واٹر ڈویڑن کو پورے جموں و کشمیر میں زیر زمین پانی کی تلاش اور اجازت دینے والا واحد مجاز ادارہ قرار دیا گیا ہے“۔جموں و کشمیر کے جل شکتی محکمے نے زیر زمین پانی نکالنے سے متعلق ضابطوں کو سخت کر دیا ہے، جس میں مجاز محکمے کی پیشگی اجازت کے بغیر بورویل کی کھدائی اور ہینڈ پمپ لگانے پر سختی سے پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ کارروائی، جس کا مقصد آبی ذخائر کی آلودگی کو روکنا اور زیر زمین پانی کے بے قابو استحصال کو روکنا ہے، میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:سختی سے نفاذ: محکمہ نے قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ہے، بشمول ڈرلنگ مشینری کی ضبطی اور غیر مجاز ڈرلنگ پر بھاری جرمانے عائد کرنا۔لازمی رجسٹریشن: موجودہ پرائیویٹ بورویلوں اور ہینڈ پمپوں کے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جے اینڈ کے آبی وسائل (ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ2010 کے تحت جرمانے سے بچنے کےلئے انہیں حکام کے ساتھ رجسٹر کریں۔وسائل کا ضابطہ: پانی کی سپلائی میں رکاوٹوں کے بعد، خاص طور پر جموں خطے میں، انتظامیہ نے سپلائی کا انتظام کرنے اور غیر محفوظ پانی کی تقسیم کو روکنے کے لیے نجی بورویلوں اور ٹینکروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔غلط استعمال کےخلاف کارروائی: جل شکتی محکمے نے کار دھونے یا باغبانی جیسے غیر ضروری مقاصد کے لیے واٹر سپلائی لائنوں پر براہ راست واٹر پمپ استعمال کرنے پر 3 سال تک قید اور 10ہزار روپے جرمانے کا انتباہ دیا ہے۔غیر قانونی سرگرمیوں کےخلاف کریک ڈاو ¿ن: بے ترتیب چیکنگ کرنے اور غیر مجاز واٹر بوسٹروں کے استعمال اور غیر قانونی ٹیپنگ کے خلاف کارروائی کرنے کےلئے پولیس پر مشتمل خصوصی سکواڈ قائم کیے گئے ہیں۔ جل شکتی محکمے نے کہاکہ یہ اقدامات زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بچانے اور خطے میں آبی وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانے کی ضرورت کے تحت کارفرما ہیں۔پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف انجینئر کشمیر ڈویڑن راکیش شرما نے بتایا کہ زیر زمین پانی کی تلاش کےلئے کھدائی کو منظم کرنے کا مقصد پینے کے صاف پانی کو یقینی بنانا اور آلودگی کے واقعات کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا: ”اب، کسی کو بھی بغیر اجازت زیر زمین پانی نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام مقامات پر پہلے فزیبلٹی جانچ کی جائے گی تاکہ آلودگی کے خطرات سے بچا جا سکے۔“یونین گراونڈ واٹر بورڈ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ”ملک میں زیر زمین پانی میں نائٹریٹس سمیت دیگر مضر آلودگیوں کی مقدار مقررہ حد سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی بڑی وجوہات زرعی بہاو، کھادوں کا بے تحاشا استعمال اور سیوریج نظام کی ناکامی جیسے عوامل ہیں۔“جموں و کشمیر میں بھی بارہمولہ، جموں، کٹھوعہ، کپوارہ، راجوری اور سانبہ اضلاع میں زیر زمین پانی میں نائٹریٹس کی زائد مقدار پائی گئی ہے، جو صحت کے لیے سنگین خطرہ تصور کی جا رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق خطے میں سالانہ زیر زمین پانی کی ری چارج صلاحیت2.55 ارب مکعب میٹر ہے، جن میں سے 2.30 ارب مکعب میٹر قابل استعمال سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت سالانہ نکاسی0.51 ارب مکعب میٹر ہے، جبکہ زیر زمین پانی کے دباو کا اشاریہ صرف 22.28 فیصد ہے، جو قومی اوسط 60.47 فیصد سے کہیں کم ہے۔اس کے باوجود2025 میں طویل خشک موسم کے باعث آبپاشی کی فراہمی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں زرعی رقبے پر دھان کی کاشت متاثر ہوئی اور کسانوں کو کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف مائل ہونا پڑا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پانی کے محتاط استعمال پر زور دیتے ہوئے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے قائم کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔دریں اثنا، جل شکتی محکمہ کی گراونڈ واٹر ڈویڑن، سرینگر شاخ، کے ایگزیکٹو انجینئر کی جانب سے جاری ایک اور سرکاری خط میں ضلع پلوامہ میں جموں و کشمیر اسٹیٹ واٹر ریسورسز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بورویل اور ہینڈ پمپ لگانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔خط کے مطابق یہ قانون گراونڈ واٹر ڈویڑن کو زیر زمین پانی کی تعمیر، نگرانی اور پائیدار استعمال کا مکمل اختیار دیتا ہے، جس میں ہینڈ پمپ، بورویل اور ٹیوب ویل شامل ہیں۔ محکمے نے تمام جاری بورویل اور ہینڈ پمپ منصوبوں کو فوری طور پر روکنے، زیر زمین پانی سے متعلق تمام تجاویز تکنیکی جانچ اور فزیبلٹی کے لیے جمع کرانے اور تمام کام صرف مجاز چینلز کے ذریعے انجام دینے کی ہدایت دی ہے۔سرکاری مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جل شکتی محکمہ کی منظوری کے بغیر کی گئی کسی بھی ڈرلنگ سرگرمی کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا، جس پر مشینری ضبط کرنے، بھاری جرمانہ عائد کرنے اور قانونی کارروائی عمل میں لانے کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔
0
