0

جموں و کشمیر میں ووٹر فہرست کی سالانہ نظرثانی

1.60 لاکھ نئے ووٹر شامل، 67 ہزار سے زائد نام حذف
سرینگر میں سب سے زیادہ نئے اندراج، جموں ضلع میں سب سے زیادہ نام خارج

سرینگر//15مارچ// یو این ایس جموں و کشمیر میں حالیہ خصوصی خلاصہ نظرثانی (ایس ایس آر) کے دوران ووٹر فہرستوں میں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد نئے ووٹر شامل کیے گئے جبکہ 67 ہزار 690 نام حذف کیے گئے اور دو لاکھ 29 ہزار سے زیادہ اندراجات میں تصحیح کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ کارروائی سالانہ ووٹر فہرست نظرثانی کے عمل کے تحت انجام دی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع جموں میں سب سے زیادہ ووٹرز موجود ہیں جہاں رجسٹرڈ رائے دہندگان کی تعداد 11 لاکھ 89 ہزار 555 ہے، جبکہ ضلع سری نگر میں ووٹرز کی تعداد 7 لاکھ 53 ہزار 222 اور ضلع بارہمولہ میں 7 لاکھ 20 ہزار 500 ریکارڈ کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق نئے اندراجات کے حوالے سے ضلع سری نگر سرفہرست رہا جہاں 30 ہزار 77 نئے ووٹرز کو فہرست میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد ضلع جموں میں 16 ہزار 855 اور ضلع بارہمولہ میں 11 ہزار 854 نئے ووٹرز کا اندراج کیا گیا۔ ناموں کی حذف کاری میں ضلع جموں پہلے نمبر پر رہا جہاں 10 ہزار 430 اندراجات فہرست سے نکالے گئے، جبکہ ضلع بڈگام میں 7 ہزار 762 اور ضلع اننت ناگ میں 5 ہزار 241 نام حذف کیے گئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نظرثانی کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 60 ہزار 974 نئے اندراجات، 67 ہزار 690 حذف شدہ نام اور دو لاکھ 29 ہزار 920 تصحیحات درج کی گئیں۔ ان میں 10 ہزار 639 ڈپلیکیٹ ووٹر اندراجات اور 34 ہزار 675 ایسے اندراجات بھی شامل ہیں جنہیں رہائش کی تبدیلی کے باعث فہرست سے خارج کیا گیا۔منتقل شدہ ووٹر اندراجات کی سب سے زیادہ تعداد ضلع جموں میں سامنے آئی جہاں 6 ہزار 840 ایسے کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ ضلع راجوری میں 4 ہزار 791 اور ضلع اننت ناگ میں 3 ہزار 745 منتقل شدہ اندراجات حذف کیے گئے۔مجموعی طور پر جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد اب 87 لاکھ 42 ہزار 878 تک پہنچ گئی ہے جن میں 44 لاکھ 65 ہزار 161 مرد ووٹر، 42 لاکھ 77 ہزار 568 خواتین ووٹر اور 149 تیسری جنس کے ووٹر شامل ہیں۔حکام کے مطابق حکومت کا ہدف ووٹر رجسٹریشن کو سو فیصد تک پہنچانا ہے، خصوصاً ان طبقات میں جہاں ووٹر اندراج کی شرح کم ہے۔ اس مقصد کے لیے نمائندگی عوامی ایکٹ کے تحت سال میں چار کوالیفائنگ تاریخیں مقرر کی گئی ہیں جن میں یکم جنوری، یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر شامل ہیں۔اس کے علاوہ ووٹر بیداری، تعلیم اور انتخابی عمل میں شرکت کو فروغ دینے کے لیے سیسٹیمیٹک ووٹرز ایجوکیشن اینڈ الیکٹورل پارٹیسپیشن پروگرام کے تحت مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کے تحت نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات میں ووٹنگ کے بارے میں شعور بیدار کرنے اور رجسٹریشن بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انتخابی حکام نے بتایا کہ ووٹر بیداری مہم کے تحت مقامی زبانوں میں مختصر ویڈیوز اور دستاویزی فلمیں تیار کی گئی ہیں، جبکہ انگریزی، ہندی اور اردو میں ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے بھی عوام کو ووٹر رجسٹریشن کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ نجی ریڈیو چینلز، کیبل ٹی وی نیٹ ورکس اور اخبارات کے ذریعے بھی معلوماتی مہم چلائی جا رہی ہے۔ضلعی سطح پر بوتھ لیول افسران کی جانب سے گھر گھر جا کر اہل ووٹرز کی نشاندہی اور ان کی رجسٹریشن میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں الیکٹورل لٹریسی کلب قائم کیے گئے ہیں جبکہ پولنگ اسٹیشنوں پر “چناو ¿ پاتھ شالہ” کے ذریعے ووٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں عملی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق 2009 میں شروع کیا گیا سیسٹیمیٹک ووٹرز ایجوکیشن اینڈ الیکٹورل پارٹیسپیشن پروگرام شہریوں کو جمہوری عمل میں فعال شرکت کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں