سری نگر :۲۲،دسمبر : جموں وکشمیرکی ادبی اور قلمی دنیا سوگوارہے ،کیونکہ معروف شاعر، ادیب اور براڈ کاسٹر عبدالاحد فرہاد جموں میں انتقال کر گئے، وہ کشمیری ادب، صحافت اور نشریات میں ایک عظیم ورثہ چھوڑ گئے۔ عبدالاحد فرہاد وسیع پیمانے پر دو لسانی خبروں کے پڑھنے میں ایک رجحان ساز اور جموں و کشمیر کی ایک عظیم ثقافتی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔جے کے این ایس کے مطابق 13 اپریل1946 کوآنچار صورہ سری نگرکے بٹ خاندان میں پیدا ہوئے، عبدالاحدفرہاد نے اپنی اسکول کی تعلیم زڈیبل سری نگر سے مکمل کی، کالج کی تعلیم ایس پی کالج سے حاصل کی، اور کشمیر یونیورسٹی سے انگریزی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے کے فوراً بعد، عبدالاحد فرہادنے1972 میں ایک انٹرمیڈیٹ اسکرپٹ رائٹر کے طور پر ریڈیو کشمیر میں شمولیت سے قبل ڈیلی وولر کے ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ بعد میں عبدالاحد فرہادنے ایک دو لسانی نیوز ریڈر کے طور پر خدمات انجام دیں اور خبروں کی پیشکش کو ایک الگ انداز اور وقار دینے کے لیے مشہور ہوئے۔ عبدالاحد فرہاد نے سری نگر سے شائع ہونے والے موقر اُردو روزنامہ آفتاب کےلئے’ کوکب کشمیری ‘کے قلمی نام سے کالم بھی لکھے اور بہت زیر بحث یونیورسٹی ڈائری کی تصنیف کی، جو تاحال یاد رکھی جاتی ہے۔ بیچلر کی تعلیم کے دوران شاعر کے طور پر منظور شدہ، عبدالاحد فرہادنے1984 میں ایک قومی سمپوزیم میں کشمیری زبان کی نمائندگی کی اور دسمبر 2008 میں مکہ میں منعقدہ بین الاقوامی اجتہاد کانفرنس میں ایک وسیع لیکچر دیا۔ عبدالاحد فرہاد نے کئی قابل ذکر کاموں کا ترجمہ کیا، جن میں مرحوم مخمور سیدی اور سری گرو نارائن کی تحریریں شامل ہیں۔ انہوں نے 1975 میں پسو گھاٹی سے امرناتھ یاترا کی لائیو کمنٹری بھی کی۔ ریڈیو کشمیر میں اپنے کیریئر کے دوران، عبدالاحد فرہاد نے کئی باوقار پروگراموں کی منصوبہ بندی کی اور پروڈیوس کیے جیسے وادی کی آواز، سنگرمل، ملاقات، نوجوانوں کے پروگرام، اور کھٹ کے لیے شکریہ۔ انہوں نے تہواروں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر 20 سے زیادہ میوزیکل فیچرز تصنیف کیں اور مختلف موضوعات پر متعد2ستاویزی فلمیں لکھیں۔ عبدالاحد فرہادنے سفرنامے بھی لکھے جن میںکھنہ بل پیٹھ کھڈنیار، صورہ پیٹھ سربل، سینڈ ٹا سفر، قاضی گنڈ پیٹھ کوپاور اور ویتھ چا پیکان شامل ہیں۔ فرہاد نے ترخ مال، گاشیر، زیتنی ذول، تبرک، عظمت نشان، شخصیات اور مشہور شہر جیسے مشہور ٹیلی ویڑن شوز کا اسکرپٹ اور کمپیئر کیا۔ عبدالاحد فرہاد کی نعت’باخداہ ساری خودائی آسہ ہا پردن اندر‘کاسہ ہا نے زانڈ ظلماتن رسول محترمﷺ“، جسے پدم شری شمیمہ دیو آزاد نے گایا، پورے برصغیر میں مقبولیت حاصل کی۔ ان کی نظم ’حبل وطن من ایمان‘کا 26 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا، جب کہ ان کے کلام کو معروف کشمیری گلوکاروں نے پیش کیا جن میں غلام حسن صوفی، راج بیگم، نسیم اختر، کیلاش مہرا، قیصر نظامی اور دیگر کے علاوہ دلراج کور جیسے پلے بیک گلوکار بھی شامل تھے۔عبدالاحد فرہاد کو کئی باوقار اعزازات سے نوازا گیا، جن میں آل انڈیا کشمیری پنڈت سماج، انجمن مظہر الحق، شاکر اسلم ایوارڈ، فنکار کلچرل آرگنائزیشن، ریڈیو کشمیر سری نگر اور بزم ثقافت بڈگام کے اعزازات شامل ہیں۔ان کے انتقال پر ادبی، ثقافتی اور میڈیا حلقوں میں بڑے پیمانے پر سوگ کا اظہار کیا گیا ہے، جنہوں نے ان کے انتقال کو جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔معروف براڈکاسٹر طلحہ جہانگیر کے مطابق عبدالاحدفرہاد کی صرف یہ نعت”باخداہ ساری خودائی آسہ ہا پردن اندر‘کاسہ ہا نے زانڈ ظلماتن رسول محترمﷺ‘ ہی انکے مرتبے کو اتنا بلند کرتی ہے کہ انکی شخصیت کے دوسرے پہلووں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ عبدالاحدفرہادموسم سرما کی شدت کی وجہ سے گزشتہ کئی ہفتوں سے جموں کے بٹھنڈی علاقے میں مقیم تھے کیونکہ اُنہیں بسا اوقات سانس کی تکلیف رہتی تھی۔ انکے لواحقین میں انکی اہلیہ اور ایک بیٹی صائمہ فرہاد ہیں، جو کشمیر یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔مرحوم عبدالاحدفرہادکی میت کو پیرکی دوپہرجموں سے سرینگر منتقل کیا گیا ،جہاں نماز عصر کے بعد آبائی مقبرہ واقع صورہ سری نگرمیں مرحوم کی تجہیز و تکفین انجام دی گئی۔نماز جنازہ میں سماج کے مختلف طبقوں وحلقوں سے وابستہ لوگوںکی ایک بڑی تعدادنے سخت سردی کے باوجود شرکت کی ۔ادھرکشمیر اردو کونسل کے ترجمان جاوید ماٹجی کے مطابق مرحوم عبدلاحد فرہاد ایک منجھے ہوئے شاعر، ادیب، مترجم اور براڈکاسٹر تھے۔ یہ چھہ ریڈیو کشمیر سرینگر:’وونی بوزو توہ فرہاد نہ زیوہ خبرہ ‘ کا فقرہ آ ج بھی کشمیر میں لاکھوں لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔جاوید ماٹجی کے مطابق فرہاد اصل میں صورہ کے اندرون میں آ نچہار کے مکین تھے اور آ ج کل احمد نگر میں رہائش پذیر تھے۔ مرحوم عبدلاحد فرہاد کو اُردو اور کشمیری زبانوں پر عبور حاصل تھا اور شاعری بالخصوص صوفی شاعری کے دلدادہ تھے۔ آ پ خود بھی صوفی ازم سے خاصےمتاثر تھے اور صوفیاءکی صحبت میں اٹھتے بیٹھتے تھے۔ ساری عمر لکھنے اور پڑھنے میں صرف کی کشمیری شاعری کی طرف البتہ زیادہ میلان تھا۔ مرحوم کی اصل پہچان ایک منجھے ہوئے براڈکاسٹر کے طور تھی۔ مزاج کے اندر ظرافت کے اجزا بھی تھے۔ای ٹی وی بھارت کے نیوز ایڈیٹر خورشید وانی کے مطابق عبدلاحد فرہاد کی رحلت کشمیر کے علم و ادب کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے نیوز ریڈنگ کے شعبے میں جو معیار قائم کیا تھا اس تک معدودے چند افراد کو ہی رسائی ہوسکی ہے۔ فرہاد صاحب ایک ملنسار شخص تھے جو نوجوان پود کو ہمیشہ بہتر سے بہترین کی جانب سفر کرنے کی تلقین کرتے تھے۔عبدالاحد فرہاد کی ادبی خدمات اور براڈکاسٹنگ کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال پر مختلف ادبی، صحافتی اور سماجی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔جموں کشمیر انجمن اردو صحافت نے بھی ان کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ادبی خدمات کو سراہا ہے۔عبدالاحد فرہاد کی تحریروں میں گہرائی اور وضاحت تھی، جبکہ ان کی عوامی مصروفیات ثقافتی اقدار کے ساتھ مضبوط وابستگی کی عکاسی کرتی ہیں۔کشمیر کی ممتاز ادبی شخصیت عبدالاحد فرہاد کئی ادبی پلیٹ فارمز سے وابستہ رہے اور انہوں نے ادب اور نوجوان ادیبوں کو فروغ دینے والے پروگراموں کی میزبانی کی۔
0
