0

خصوصی مضمون: بیگم پارہ ایک آزاد خیال اداکارہ

ممبئی، 25 دسمبر (یو این آئی) آج کےدور میں ہندی سنیما میں گلیمر کے معنی مختلف ہیں۔ بالی ووڈ میں بولڈنیس اور ہاٹنیس یعنی کہ بلا جھجھک جسمانی نمائش کے معنی بدل گئے ہیں ۔ آج کے دور کی اداکارائیں بولڈ مناظر فلمانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتں ، لیکن ایک دور تھا جب ایسے کپڑے پہننا جن سے جسمانی نمائش ہوتی بہت معیوب سمجھا جاتا تھا اور فلمی تقاضوں کے مطابق اگر ایسے کپڑے پہن بھی لئے جاتے تو یہ ہیروئن کے لیے ایک بڑی بات ہوا کرتی تھی۔ جس زمانے میں مدھوبالا اور نرگس جیسی ہندوستانی روایات کی پاسداری کرنے والی اداکاراؤں کا غلبہ تھا ، اسی دور میں ایک اداکارہ ایسی ا بھی گزریں ہیں جنہیں بالی وڈ کی پہلی گلیمر گرل کہا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا اور وہ اداکارہ تھیں بیگم پارہ ۔

چالیس اور 50 کی دہائی میں جب ہندی سنیما نئی وسعتوں کی جانب گامزن تھا ۔ اس وقت ایک اداکارہ اس شعبے میں اپنے ارتقائی مدارج طے کررہی تھیں ۔ بیگم پارہ کی پیدائش 25 دسمبر 1926 کو پنجاب کے جہلم میں ہوئی تھی ۔ان کے والد احسان الحق کا شمار اپنے زمانے کی معزز شخصیات میں ہوتا تھا جو علی گڑھ سے تعلق رکھتے تھے، لیکن بیگم پارہ کا بچپن اور عمر کا ایک بڑا حصّہ ریاست بیکانیر میں گزرا جہاں ان کے والد بغرضِ ملازمت قیام پذیر تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ بیگم پارہ کا اصل نام زبیدہ الحق تھا ۔ لیکن فلمی دنیا میں انہوں نے بیگم پارہ کے نام سے قدم رکھا۔

اپنے بچپن انہیں گھر میں ایسا ماحول ملا جس میں نظم و ضبط اور اصول و اقدار کو بہت اہمیت دی جاتی تھی، لیکن بیگم پارہ نے اپنی زندگی کو اپنے طور پر گزاری اور سماج میں خود کو ایک ‘لبرل’ خاتون فنکار کے طور پر منوایا۔

بیگم پارہ کے بڑے بھائی مسروروالحق 1930 کی دہائی کے آخر میں اداکار بننے کے لیے بمبئی آگئے تھے ۔ انہوں نے بنگالی اداکارہ پروتیما داس گپتا سے شادی کی تھی۔ جب بیگم پارہ ممبئی آئیں تو وہ مایا نگری اور اس دنیا کی چکاچوند کو دیکھ کر حیران رہ گئیں اور یہیں سے ان کے دل میں اداکارہ بننے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ بیگم پارہ نے جب فلمی دنیا میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا تو گھر میں کافی ہنگامہ ہوا۔ چونکہ اس زمانے میں فلم اداکاراؤں کا پیشہ شرفا کے شایانِ شان تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ اس لیے جب ایک معروف جج کی بیٹی کے فلمی دنیا میں داخلے کی خبر آئی تو لوگوں نے اس کو کافی بڑا اسکینڈل بنا دیا۔ خود بیگم پارہ کے والد بھی فکرمند ہوئے چونکہ گھر والوں کو احساس تھا کہ بیگم پارا کو ان کے ارادوں سے باز رکھنا ممکن نہیں اس لیے انہوں نے ہلکے پھلکے احتجاج پر ہی اکتفا کیا اور ان کے راستے میں حائل نہ ہوئے۔” آہستہ آہستہ انہیں فلموں کی پیشکش ہونے لگی ۔ بیگم پارہ کو پہلا موقع 1944 میں پربھات پروڈکشن کی فلم ‘چاند’ سے ملا اگرچہ انہیں فلموں میں مرکزی اداکارہ کے زیادہ رول نہیں ملے لیکن وہ ایک ماڈل کے طور پر ابھرنے لگیں ۔

فلموں میں کام کرنے کے درمیان ، بیگم پارہ نے ایک فوٹو شوٹ کرانے کا فیصلہ کیا ۔ اس دور میں جب ہیروئن ساڑیوں میں ملبوس ہوا کرتی تھیں، اسکرین پر وہ سوٹ یا گھاگھرا چولیوں میں نظر آتی تھیں ۔ اس دور میں ، بیگم پارہ نے ایک بولڈ فوٹو شوٹ کروا کے ہلچل مچا دی۔ انہوں نے یہ فوٹو شوٹ لائف میگزین کے لیے کرایا تھا ۔

ہاتھ میں سگریٹ ، کھلے بال اور حیرت انگیز اعتماد… بیگم پارہ کے اس فوٹو شوٹ نے ہر جگہ ہلچل مچادی ۔ اس فوٹو شوٹ سے راتوں رات وہ بالی ووڈ کی ‘گلیمر گرل’ کے نام سے مشہور ہو گئیں ۔ انہیں بالی ووڈ کی پہلی ‘بم شیل’ اور ‘پن اپ گرل’ اور اس طرح کے بہت سے ناموں سے پکارا گیا ۔ وہ نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ملک بھی اپنی اسی شبیہ کے ساتھ مشہور ہوگئیں ۔ کہا جاتا ہے کہ بیگم پارا اس فوٹو شوٹ کے بعد بیرون ملک اتنی مقبول ہو گئی تھیں کہ وہاں کے سپاہی ان کی تصاویر اپنے پاس رکھنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی فوجی اپنی جیبوں میں بیگم پارا کی تصویر رکھ کر جنگ لڑنے جاتے تھے ۔

ان کی شادی اداکار دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی ناصر خان سے ہوئی تھی ۔ ناصر خان بھی اس وقت کے مشہور اداکار تھے ۔ سال1974 میں اپنے شوہر ناصر خان کی موت کے بعد 1975 میں وہ اپنے کنبے کے ساتھ مختصر قیام کے لیے پاکستان چلی گئیں ۔ لیکن وہ وہاں زیادہ دن رہ نہیں پائیں اور دو سال بعد ہندوستان واپس آ گئیں ۔

بیگم پارہ کی فلموں کی ایک لمبی فہرست ملتی ہے جن میں سے اکثر کامیاب ہوئیں جن میں چھمیا، شالیمار (1946)، دنیا ایک سرائے، لٹیرا، مہندی، نیل کمل اور زنجیر (1947) ، جھرنا، شہناز اور سہاگ رات (1948)، دادا (1949)، مہربانی (1950)، لیلی مجنوں اور نیا گھر (1953)، آدمی (1957) ، دوستانہ (1956) سوہنی مہیوال، لیلا منّو اور قسمت کا کھیل شامل ہیں ۔ ان کا بیٹا ایوب خان ایک معروف اداکار ہے ۔ انہیں آخری بار 2007 میں رنبیر کپور اور سونم کپور کی فلم سانوریہ میں دیکھا گیا تھا ۔ بیگم پارہ کا انتقال 9 دسمبر 2008 میں ہوا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں