0

دو کشمیری سرکاری اسکولوں نے ’ویپرو ارتھین ایوارڈ 2025‘ جیت کر قومی سطح پر تاریخ رقم کی

سری نگر،4 فروری (یو این آئی) سرکاری تعلیم کے شعبے کیلئے ایک بڑی کامیابی کے طور پر وادی کشمیر کے دو سرکاری تعلیمی اداروں نے ملک کے باوقار ’ویپرو ارتھین ایوارڈ 2025‘ اپنے نام کر کے ریاست کو قومی سطح پر پائیدار ماحولیات اور سسٹینیبل ایجوکیشن کے شعبے میں نمایاں مقام دلایا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول نشاط، سرینگر اور گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بی کے پورہ، بڈگام کو گزشتہ ہفتے پریم جی یونیورسٹی، بینگلورو میں منعقدہ 15ویں سالانہ ایوارڈ تقریب کے دوران اس اعزاز سے نوازا گیا۔ اس پروگرام میں ملک بھر کے ممتاز اداروں اور طلبہ کو ان کی تحقیق پر مبنی پروجیکٹس کے لیے سراہا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر سے موصول ہونے والی دو ہزار سے زائد انٹریز میں سے صرف 25 پروجیکٹس کو ایوارڈ کیلئے منتخب کیا گیا، جن میں کشمیر ڈویژن سے دو سرکاری اسکولوں کا شامل ہونا ایک نمایاں کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں اسکولوں کی شاندار کامیابی ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر اور جموں و کشمیر ایسوسی ایشن آف سوشل ورکرز کے درمیان مضبوط اشتراکِ عمل کا نتیجہ ہے۔
تقریب میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول نشاط کی طرف سے مینٹر ٹیچر منیزہ منظور اور طلبہ شفقت نصیر، سویرا مقبول، رونق جاوید، انمتہ لطیف اور رضوا جاوید نے شرکت کی، جبکہ گورنمنٹ ہائیر سکنڈری اسکول بی کے پورہ کی نمائندگی مینٹر ٹیچر سید سمیعہ بشرہ اور طلبہ ابرار منظور، عثر امتیاز، محمد افہام، آمنہ فردوس اور کاشف زبیر نے کی۔ شاہنواز بھی اس موقع پر موجود تھے۔
گورنمنٹ گرلز ہائیر سکنڈری اسکول نشاط کی ٹیم نے پائیداری اور حیاتیاتی تنوع کے موضوع پر جامع تحقیق انجام دی، جس کے تحت کیمپس میں موجود نباتات اور حیوانات کا تفصیلی ریکارڈ تیار کیا گیا۔ انہوں نے وائلڈ لائف اور زرعی ماہرین سے ملاقاتوں کے علاوہ داچھی گام نیشنل پارک کا بھی مطالعہ کیا، جہاں طلبہ نے موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کی کٹائی کے مقامی ماحولیاتی نظام پر اثرات کا جائزہ لیا۔ ٹیم نے حیاتیاتی تنوع، غذائی تحفظ اور مٹی کی صحت کے آپسی تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے شجرکاری اور جنگلی حیات کے تحفظ کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیا۔
ادھر گورنمنٹ گرلز ہائیر سکنڈری اسکول بی کے پورہ کے طلبہ نے بڈگام کی خوراکی حیاتیاتی تنوع پر فیلڈ اسٹڈی انجام دی۔ اس تحقیق میں روایتی پودوں کی کمی اور بیرونی نقصان دہ انواع کے پھیلاؤ کا ریکارڈ کسانوں، شہد پالنے والوں اور مقامی ہنرمندوں کے انٹرویوز کے ذریعے مرتب کیا گیا۔ ٹیم نے اسکول کیمپس میں کیڑوں کا خصوصی مسکن بھی تیار کیا تاکہ پولینیٹرز اور چھوٹے جانداروں کی ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔
جے کے اے ایس ڈبیلو کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران کشمیر ڈویژن میں 160 اساتذہ اور 600 طلبہ کو سسٹینیبلٹی ایجوکیشن کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ صرف 2025 میں 10 اضلاع کے 81 اساتذہ تربیت یافتہ ہوئے اور 36 تحقیقی پراجیکٹس قومی سطح پر جمع کرائے گئے جن میں سے دو نے بہترین 25 کی فہرست میں جگہ بنائی۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مناسب رہنمائی اور ادارہ جاتی تعاون کی صورت میں سرکاری اسکول بھی قومی سطح پر ماحولیاتی جدت اور پائیدار ترقی کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں