0

ریزرویشن تنازعہ: انتظامیہ نے مجوزہ احتجاجی پروگرام کوناکام بنایا، آغا روح اللہ، وحید الرحمن پرہ اور التجا مفتی گھروں میں نظر بند

سری نگر،28 دسمبر(یو این آئی) جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کو لے کر جاری تنازعے کے درمیان انتظامیہ نے اتوار کو طلبہ اور سیاسی جماعتوں کے مجوزہ احتجاجی پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ شہر کے حساس مقامات— پولو ویو اور ایس کے پارک—کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، جبکہ متعلقہ سیاسی شخصیات کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا، جس پر سیاسی حلقوں اور شہریوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ممبر پارلیمان آغا روح اللہ مہدی، پی ڈی پی کے سینئر لیڈر وحید الرحمٰن پرہ اور محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی کو آج صبح سویرے ہی گھروں میں نظر بند کیا گیا۔ انتظامیہ نے ان رہنماؤں کی نقل و حرکت نہ صرف محدود کی بلکہ ان کے گھروں کے باہر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔
آغا روح اللہ مہدی کے دفتر نے ایک سخت لہجے میں بیان جاری کرتے ہوئے بتایا:’پولیس نے باضابطہ طور پر محترم ایم پی کو آگاہ کیا ہے کہ انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور انہیں باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں۔ ہمیں دیر رات ایسے بھی اطلاعات موصول ہوئیں کہ کئی طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو پولیس کی جانب سے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ یہ سب اس لیے کہ وہ محض ایک منصفانہ، معقول اور منطقی ریزرویشن پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
دفتر کے مطابق، طلبہ پر مبینہ دباؤ اور گرفتاریوں کا سلسلہ پوری رات جاری رہا، جس سے احتجاج کے ماحول کو دبانے کی واضح کوشش نظر آتی ہے۔
دوسری جانب التجا مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں انتظامیہ کے اقدامات پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے لکھا:
’بہت سے دیگر لوگوں کی طرح مجھے بھی آج سرینگر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کی غیر یقینی اور خوف زدہ ذہنیت کی کوئی حد نہیں۔ یہی ہے ’نارملسی‘ نئے کشمیر میں۔ خواتین پولیس اہلکاروں کا ایک بڑا دستہ میرے گیٹ پر تعینات ہے تاکہ مجھے جسمانی طور پر باہر جانے سے روکا جا سکے۔ کیا کوئی بتائے گا کہ یہ کس قانون کے تحت ہو رہا ہے؟‘
التجا مفتی نے کہا کہ یہ اقدامات جمہوری اقدار کے منافی ہیں اور عوامی آواز کو دبانے کی دانستہ کوشش ہے۔
پی ڈی پی ایم ایل اے وحید پرہ نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریزرویشن پالیسی کا بحران ایک ’وجودی مسئلہ‘ بن چکا ہے، جو نوجوان نسل کے مستقبل کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔
انہوں نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا:’ریزرویشن پالیسی ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کے بنیادی ڈھانچے پر ضرب لگا رہی ہے۔ ہم گزشتہ ایک سال سے طلبہ کے ساتھ وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوتے رہے، لیکن اس دوران حکومت کی جانب سے مسئلہ حل کرنے کی بالکل کوئی نیت نظر نہیں آئی۔ اس عدم توجہی نے نوجوانوں کی بے چینی اور غیر یقینی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔‘
وحید پرہ کے مطابق، ایک سال قبل وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ریزرویشن پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے ایک کابینی سب کمیٹی تشکیل دی تھی، مگر اب تک نہ تو رپورٹ سامنے لائی گئی ہے اور نہ ہی طلبہ کے خدشات دور کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں