سری نگر،11نومبر(یو این آئی) فریدآباد میں 360 کلوگرام دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کے بعد گرفتار کیے گئے ڈاکٹر مزمل گنائی کے اہل خانہ نے منگل کے روز ان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مزمل ایک عام شہری اور محب وطن انسان ہیں، جن کا کسی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔
ڈاکٹر کے بھائی آزاد شکیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،’یہ کہا جا رہا ہے کہ میرا بھائی بڑا دہشت گرد ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری فیملی نے کبھی کسی غیر قانونی کام میں حصہ نہیں لیا۔ گزشتہ پچاس برسوں میں ہمارے خاندان کا کسی کیس یا غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ہم کھیتوں میں کام کرنے والے عام کسان ہیں۔’
آزاد شکیل نے مزید کہا کہ ان کی فیملی کو ماضی میں قوم پرستی کے سبب پتھراؤ کرنے والے عناصر نے نشانہ بنایا تھا۔ ہم مکمل طور پر ہندوستانی ہیں۔ ہم نے ہندوستان کے لیے پتھر کھائے ہیں، آپ گاؤں کے کسی بھی شخص سے تصدیق کرسکتے ہیں۔
گرفتار ڈاکٹر کے بھائی نے یہ بھی بتایا کہ مزمل حال ہی میں اپنی بہن کی شادی کے لیے گھر آئے تھے جو اتوار کو ہونا طے تھی، تاہم ان کی گرفتاری کے بعد شادی منسوخ کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان ہیں، ہر کوئی ان کے اخلاق اور خدمت کے جذبے کی گواہی دے گا۔ لیکن ہمیں اب تک ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق پولیس کو شبہ ہے کہ فریدآباد میں برآمد ہونے والا دھماکہ خیز مواد حالیہ دہلی دھماکے سے منسلک ہو سکتا ہے جس میں امونیم نائٹریٹ، فیول آئل اور ڈیٹونیٹر استعمال کیے گئے تھے۔ تاہم اس تعلق کی ابھی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب پلوامہ کے کوئل علاقے سے پولیس نے دہلی دھماکے میں مشکوک ڈاکٹر عمر نبی کے والد غلام نبی بٹ کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمر نبی مبینہ طور پر وہ شخص ہے جو دہلی کے لال قلعے کے قریب دھماکہ خیز گاڑی چلا رہا تھا۔
فریدآباد کے معاملے میں پولیس نے تین دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا ہے جن کا تعلق اس گاڑی کی خرید و فروخت سے بتایا جا رہا ہے جو دہلی دھماکے میں استعمال ہوئی تھی۔ تاہم ابھی تک کسی کی باضابطہ گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے دہلی اور ہریانہ میں ممکنہ دہشت گرد نیٹ ورک کی جانچ میں مصروف ہیں، جب کہ کشمیر میں سیکیورٹی ایجنسیاں بھی ان تمام افراد کے رابطوں اور پس منظر کی چھان بین کر رہی ہیں تاکہ دہلی دھماکے اور فریدآباد معاملے کے درمیان کوئی ممکنہ رابط سامنے آسکے۔
0
