0

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دہشت گردی متاثرہ خاندانوں میں تقرری نامے تقسیم کیے

دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کا عزم

جموں، 23 مارچ:(عقاب ویب ڈیسک)لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز جموں میں کنونشن سینٹر میں ایک اہم تقریب کے دوران دہشت گردی کے متاثرین کے 37 اہل خانہ (نیکسٹ آف کن) میں تقرری نامے تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ 29 ایسے سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کو بھی ملازمت کے خطوط دیے گئے جو ڈیوٹی کے دوران اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔

یہ تقرریاں جموں و کشمیر ریہیبلیٹیشن اسسٹنس اسکیم-2022 اور ایس آر او 43 کے تحت کی گئیں، جن کا مقصد متاثرہ خاندانوں کی معاشی اور سماجی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔

اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے دہشت گردی کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورک اور اس کے معاونین کے خلاف سخت ترین کارروائی کا عزم دہرایا۔

انہوں نے کہا، “میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کی باعزت اور باوقار زندگی کے لیے پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کریں گے۔ جب تک ہر خاندان کو انصاف نہیں مل جاتا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔”

لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف صرف سزا دینے تک محدود نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھنا اور ان کی عزتِ نفس کو بحال کرنا بھی انصاف کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا، “انصاف یہ بھی ہے کہ ہم کن کہانیوں کو یاد رکھتے ہیں۔ انصاف یہ بھی ہے کہ غمزدہ خاندانوں کے آنسو پونچھے جائیں، ان کے درد کو تسلیم کیا جائے اور ان کے زخموں کو بھرا جائے۔ جو کہانیاں کبھی فراموش ہو چکی تھیں، آج انہیں عزت اور یاد کے ساتھ دوبارہ لکھا جا رہا ہے۔”

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں نوجوان اور متاثرہ خاندان ایک بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلا جائے۔

انہوں نے دہشت گردی کے باقی ماندہ عناصر اور ان کے معاونین کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا دور ختم ہو چکا ہے۔

“جموں و کشمیر کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ کن عناصر نے دہشت گردوں کو پناہ دی، لیکن اب وہ ڈھال ٹوٹ رہی ہے۔ میں انہیں خبردار کرتا ہوں کہ اب اس سرزمین پر دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں رہی،” انہوں نے کہا۔

لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ ماضی میں سرکاری نظام میں دراندازی کرنے والے دہشت گردی سے وابستہ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں سرکاری ملازمتوں سے نکال کر سزا دی جائے گی۔

انہوں نے کہا، “جو لوگ براہِ راست دہشت گردی میں ملوث ہیں انہیں ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے، جبکہ برسوں سے نظر انداز کیے گئے متاثرہ خاندانوں کو سرکاری نوکریاں دی جا رہی ہیں تاکہ ان کی معاشی اور سماجی عزت بحال ہو سکے۔”

انہوں نے اس عمل کو محض پالیسی کی اصلاح نہیں بلکہ “نئے جموں و کشمیر کے لیے ایک اخلاقی اعلان” قرار دیا۔

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایک نیا نظام قائم ہو چکا ہے جو دہشت گردی سے وابستہ عناصر کو سخت سزا دے گا اور متاثرین کو ان کا حق دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، کمشنر سیکریٹری ایم راجو، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، ڈپٹی کمشنر جموں ڈاکٹر راکیش منہاس سمیت دیگر اعلیٰ افسران، سماجی تنظیموں کے نمائندے اور متاثرہ خاندانوں کے افراد بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں