0

مالی چیلنجوں کے باوجود گزشتہ برس کا بجٹ فریم ورک جاری رہے گا: عمر عبداللہ

جموں،12جنوری(یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود حکومت گزشتہ برس وضع کیے گئے بجٹ فریم ورک کو جاری رکھے گی، جاری ترقیاتی اسکیموں کو آگے بڑھائے گی اور ضرورت کے مطابق نئی پہلوں کا آغاز بھی کرے گی تاکہ ترقیاتی رفتار متاثر نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوری اور فروری بڑے فیصلوں کے لیے مناسب مہینے نہیں کیونکہ اس مدت میں فنڈز کی نئی الاٹمنٹ مارچ کے اختتام تک لَپس ہونے کا خدشہ رہتا ہے، اس لیے اہم فیصلوں کو آنے والے سال کے بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے جموں میں ترقیاتی صورتحال کے جامع جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں استعمال شدہ فنڈز، باقی رہ جانے والے کاموں اور ضلع کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر فنڈز خرچ ہو چکے ہیں جبکہ باقی معمولی نقائص دور کیے جا رہے ہیں۔ عمر عبداللہ اپنی رہائش گاہ وزارت روڈ سے تقریباً نصف کلومیٹر پیدل چلتے ہوئے ڈی سی آفس پہنچے جہاں اجلاس میں نائب وزیراعلیٰ سرندر چودھری، کابینی وزرا، چیف سیکریٹری اتل ڈھلّو اور جموں ضلع کے ارکانِ اسمبلی بھی موجود تھے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مرکز کا زیادہ سے زیادہ تعاون جموں و کشمیر کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ یونین ٹریٹری کی مالی پوزیشن بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ترقیاتی اسکیموں کو نہ صرف جاری رکھا جائے گا بلکہ پچھلے بجٹ کے ڈھانچے کو بنیاد بنا کر نئی اسکیمیں بھی متعارف کرائی جائیں گی۔
نیشنل لا یونیورسٹی کو لے کر پیدا ہونے والے تنازع پر انہوں نے امتیاز کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب جموں میں آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم قائم کیے گئے تھے، اُس وقت کسی نے برابری کی بات نہیں کی۔ ان کے مطابق اُس وقت کشمیر کو کچھ نہیں ملا تھا، اس لیے اب این ایل یو کی لوکیشن کے معاملے میں اعتراضات غیر ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایل یو کہاں قائم ہوگا، اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے، اور حکومت مناسب وقت پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
عمر عبداللہ نے عوام سے صبر اور اعتماد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر فیصلے میں شفافیت اور میرٹ کو مقدم رکھے گی اور ترقی کا سفر بلا تعطل جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں